English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مون سون کی 1500ملی میٹر تک بارشیں ریکارڈ ہوئیں

القمر

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کے چیئرمین احسن اقبال نے کہا ہے کہ جنوبی علاقوں میں 30 سال کی اوسط میں 500 گنا سے زیادہ بارشیں ہوئیں اور کچھ علاقوں میں بارش 1500 ملی میٹر ہوئی جس کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی۔
چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے سیلاب سے متعلق پریس بریفنگ میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ 14 جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادہ دنوں تک چلتا رہا۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث بدقسمتی سے بڑی تباہی ہوئی۔ بارشوں اور سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کترینا طوفان آیا تو سپر پاور ملک بے بس ہو گیا تھا اسی طرح جاپان میں بھی جب طوفانی سیلاب آیا تو وہ بے بس ہوگیا۔ قدرتی آفات سے مرکزی، صوبائی یا ادارے تنہا نہیں نمٹ سکتے بلکہ قوم نے مل کر نمٹنا ہوتا ہے۔
بارشوں اور سیلاب سے سندھ اور بلوچستان بہت متاثر ہوا جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا کے بعض علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے۔ بارشوں اور سیلاب سے رابطہ سڑکیں تباہ ہوئیں۔
شمالی علاقوں میں کم اور جنوبی علاقوں میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ جنوبی علاقوں میں 30 سال کی اوسط میں 500 گنا سے زیادہ بارشیں ہوئیں اور کچھ علاقوں میں بارش 1500 ملی میٹر ہوئی۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکوں کا بڑا حصہ متاثر ہوا۔
کہ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان میں سیلاب سے تباہی ہوئی، آبادی، فصلیں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا۔ 81 گرڈ اسٹیشنز میں 69 کو بحال کر دیا گیا ہے جبکہ 12 پر کام جاری ہے اور یہ بھی جلد بحال ہوجائیں گے۔ 123 فیڈرز پر کام جاری ہے اور چند دنوں میں اس سے بھی بجلی کی ترسیل شروع ہوجائے گی۔ متاثرہ 881 فیڈرز میں سے 758 فیڈرز کو بحال کیا گیا۔
چیئرمین این ایف آر سی سی نے کہا کہ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان کو نقصان پہنچا جبکہ جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں زیادہ تر آبادی متاثر ہوئی۔ اسی طرح بارشوں اور سیلاب سے 10 لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، ہائی ویز انجینئرز اور دیگر اداروں نے 11 شاہراہیں بحال کر دی ہیں۔
دریائے سندھ میں ابھی بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے اور پانی کے نکاس میں سست روی ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے پنجاب میں 54 اموات ہوئیں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں اور بلوچستان میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں کے دوران ہمارے افسران شہید ہوئے لیکن اس کے باوجود سیلابی صورتحال میں عوام اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے خیبر پختونخوا، سندھ اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ پاکستان آرمی اور نیوی کے ہیلی کاپٹرز امدادی کارروائیوں کے لیے زیراستعمال ہیں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے سیاح اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ 250 میڈیکل کیمپوں میں 83 ہزار افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
افواج پاکستان، رینجرز ایف سی، این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر خدمات انجام دے رہے ہیں، پاکستان ائیر فورس کی جانب سے خوراک، بنیادی اشیا متاثرین کو فراہم کی گئیں اور پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا۔ جی ایچ کیو میں ہونے والی 6 ستمبر کی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔
پاک فوج کے جوانوں نے جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو ریسکیو کیا اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں فوج کی ضرورت ہے وہ وہاں موجود ہے۔ پاکستان ائیر فورس کا ایریل رسپانس خاص طور پر قابل ذکر ہے، پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیمپس ہیں جس میں متاثرین کا علاج ومعالجہ جاری ہے اور کیمپوں میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا۔
میجر جنرل بابر افتخار نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جبکہ خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں کے لیے ہیلپ لائن 1135 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے اختر نواز نے کہا کہ رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں اور قدرتی آفت کی وجہ سے تلخ ترین صورتحال سے دوچار ہوئے۔ بارشیں سندھ، بلوچستان اور پنجاب پر زیادہ اثر انداز ہوئیں۔ رواں سال ہمیں 4 ہیٹ ویوز کا سامنا رہا اور ہیٹ ویوز کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے۔ رواں سال 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے