English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مدد میں‌ پیش پیش، ڈی جی آئی ایس پی آر

القمر

ڈی جی ای ایس پی آر نے اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افواجِ پاکستان کی Relief Rescue Activities
کے حوالے سے آگاہ کیاہے۔
حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے آغاز سے ہی افواجِ پاکستان اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لئے متاثرہ
علاقوں میں پچھلے2ماہ سے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔
افواجِ پاکستان کا ہر ایک سپاہی اور آفیسر اسے ڈیوٹی کی بجائے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر عوا م کے مسائل
کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔
یہی وہ جذبہ تھا جِس کے تحت گزشتہ ماہ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی، میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈئیر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہٰ منان اور نائیک مدثر فیاض بلوچستان کے علاقے لسبیلہ (وِندر) میں سیلاب سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کیا۔

جولائی اور اگست میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کا عزم کیا گیا اور اس حوالے سے آرمی چیف نے خصوصی ہدایات دیں۔
آرمی چیف کی ہدایات کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کے لئے کتنا ہی وقت اور کوشش درکار ہو۔
آرمی کی سطح پر کمانڈر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کی سر براہی میں
Army Flood Relief Coordination Centreقائم کیا گیا ہے اورکمانڈر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ National Flood Response and Coordination Centreکے نیشنل Coordinatorکے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔
RRR Strategyیعنی Relief, Rescue Rehabilitation کے تحت افواجِ پاکستان سول ایڈمنسٹریشن، Disaster Management Authorityاور دیگر فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آرمی چیف نے سندھ، بلوچستان،خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تفصیلی دورے کئے ہیں اور وہاں پر جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔
پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں Rescue Relief Activitiesمیں مصروف ہیں۔

اب تک276 ہیلی کاپٹر Sortiesمختلف علاقوں میں Operateکی گئی ہیں۔خراب موسم اور دیگرChallengesکے باوجودپاکستان آرمی ایوی ایشن کے Pilotsنے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر نا صرف لوگوں کوRescueکیا بلکہ اُن تک ضروریRelief Itemsکی دستیابی کو بھی یقینی بنایا۔
کمراٹ اور کالام میں بھی جو لوگ سیلاب کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھنس گئے تھے ان سے فوری رابطہ کر کے انہیں پاک آرمی نے محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں KPKکی ہیلپ لائن1125جبکہ باقی صوبوں کے لئے آرمی ہیلپ لائن1135پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت ملک بھر میں پاک افواج کے 147 ریلیف کیمپس جس میں 50ہزار سے زائد متاثرین کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے جبکہ 250میڈیکل کیمپس جس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ سندھ کیلئے آرمی کے اضافی میڈیکل اور Engineers Resourcesکو بھی بھیجا گیا ہے۔
آرمی نے سیلاب متاثرین کیلئے 3دن کا راشن جو کہ تقریبا 1685ٹن جبکہ25ہزار Meal Ready to Eat (MRE) اور کثیر تعداد میں 8اور and 4 Men Tentsبھی سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔
ملک بھر میں284 x Flood Relief Collection Points قائم کئے گئے ہیں۔
ان Relief Collection Pointsمیں 2294ٹن راشن جبکہ311 ٹن سے زائد ضروریات ِ زندگی کی بنیادی اشیاء اور 10لاکھ70ہزار سے زائد ادویات پورے پاکستان کے لوگوں نے جمع کروائی ہیں۔
اب تک1793ٹن راشن اور277ٹن کا دیگر ضروریات کا سامان متاثرین میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ7لاکھ70ہزار کے قریب ادویات بھی سیلاب متاثرین کو فراہم کی جا چکی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ائیرفورس اور نیوی کی امدادی ٹیمیں بھی ملک بھر میں Rescue Relief Activitesمیں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

پاکستان ائیرفورس کی Aerial Effortsبھی قابلِ ذکر ہیں جن میں C130اور ہیلی کاپٹرز نے 135 Sortiesکے دوران 1521سے زائد افراد کو Rescueکیا۔ PAFکے 41ریلیف کیمپس لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اور 35فری میڈیکل کیمپس میں اب تک 16ہزار سے زائد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہیں۔اس کے علاوہ کثیر تعداد میں راشن اور ٹینٹس بھی تقسیم کئے جا چکے ہیں۔
پاکستان نیوی کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز اور Diving Teamsملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔اب تک 55ہزار سے زائد فوڈ پیکجز تقسیم کئے جا چکے ہیں، جن میں 650ٹن راشن اور1080 سے زائد ٹینٹس شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ19میڈیکل کیمپس جس میں اب تک 18ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ پاکستان نیوی نے اب تک تقریباََ 10ہزار متاثرین کو Rescueکیا ہے۔
سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ”آرمی ریلیف فنڈ اکاؤنٹ برائے سیلاب زدگان“ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے لوگ اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کیلئے دل کھول کر مدد کرر ہے ہیں۔
اسی جذبے کے پیشِ نظر آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افسران اور جوان بھی رضاکارانہ طور پر اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
اب تک سیلاب متاثرین کے لئے آرمی ریلیف فنڈ میں 417ملین روپے جمع ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران44ملین روپے جمع ہو ئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کی لیڈر شپ بھی آرمی چیف سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کے لئے اقدامات کئے جا سکیں۔
پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیلئے یومِ دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کی ہے۔
تاہم شہداء پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں جن کے دَم سے ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں۔
شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ انہی کے سبب امن کی فضا ء قائم ہے۔ہم ان کو کبھی نہیں بھلا سکتے اور ہم کوئی شہید بھولے نہیں ہیں۔
ستمبر کے اس مہینے میں ہم ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن پر اپنی جان قربان کر دی۔
عوام کا اعتماد افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے۔
پاک فوج ہمیشہ قدرتی آفات اور غیر معمولی حالات میں عوام کی مدد کرنے میں پیش پیش رہی ہے اور اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر کوشش اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں بھی عوام کے تعاون سے ہم اس ناگہانی آفت سے نجات پا لیں گے۔

No related posts.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے