تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تقریر لائیو دکھانے پر پابندی کے خلاف کیس کی سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی.
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا.
کیا آپ نے عمران خان کا کل کا بیان سنا ہے؟
کیا پولیٹیکل لیڈرشپ اس طرح ہوتی ہے؟
گیم آف تھرونز کیلئے ہر چیز کو اسٹیک پر لگا دیا جاتا ہے؟
آرمڈ فورسز ہمارے لئے جان قربان کرتے ہیں اگر کوئی غیرقانونی کام کرتا ہے تو سب تنقید کرتے ہیں.
اپنی بھی خود احتسابی کریں کہ آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں. آپ چاہتے ہیں جو مرضی کہتے رہیں اور
ریگولیٹر ریگولیٹ بھی نہ کرے؟
عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ رکھیں یہ عدالت کا استحقاق ہے. ہر شہری محب وطن ہے کسی کے
پاس یہ سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار نہیں.
آرمڈ فورسز کے بارے میں جو شہید ہو رہے ہیں اس طرح کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
کوئی بیان دے کہ کوئی محب وطن ہے اور کوئی محب وطن نہیں پھر آپ کہتے ہیں ان کو کھلی چھٹی دے دیں؟
آرمڈ فورسز کے بارے میں اس طرح کا بیان دے کر کیا آپ ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں؟
کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آرمڈ فورسز میں کوئی محب وطن نہیں ہو گا؟
جو کچھ کل کہا گیا کیا اس کو کیا اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟
اس وقت آرمڈ فورسز عوام کو ریسکیو کر رہے ہیں کیا کوئی اس بیان کو جسٹیفائی کر سکتا ہے؟
جب آپ پبلک میں کوئی بیان دیتے ہیں تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے.
عدالت نے پیمرا کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ریگولیٹ کرنے کا حکم دے دیا اس طرح
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کے ساتھ عمران خان کی درخواست نمٹا دی.
No related posts.
