English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کا ‘دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ’ کے چیف ایڈیٹر پر حملہ اور بیہمانہ تشدد

القمر

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنوں کی جانب سے طلبہ کے میگزین ‘دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ’ کے مدیرِ اعلی جودت سید پر تشدد کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق آج دوپہر جب جودت سید اپنے گھر سے معمول کے مطابق یونیورسٹی پہنچے تو وہاں جمیعت کے ارکان گھات لگائے بیٹھے تھے اور ڈیڑھ بجے ان پر دھاوا بول دیا۔

جودت سید نے نیا دور سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے میس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنے سپر وائزر سے میٹنگ کیلئے گئے تھے، میٹنگ کے بعد وہ جیسے سے باہر نکلے تو اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم حارث بلوچ کی قیادت میں 3 لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا، اور انہیں دیوار سے لگا کر مارنے لگے۔

ان کے مطابق 10 منٹ تک سیکیورٹی گارڈز نہ آئے تاہم جب وہ آئے تو بجائے اس کے کہ حملہ آوروں کو پکڑتے انہوں نے ان کی منت سماجت کر کے مجھے جھڑوایا اور اس کے بعد جانے دیا جبکہ ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کیلئے بھی کہا مگر انتظامیہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے کیمرے خراب ہیں۔

اس سوال پر کہ جمعیت کے طلبہ کی جانب سے آپ پر کیے گئے حملے کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ شاید ان کے علم میں ہے کہ میں دی سٹوڈنٹ ہیرلڈ کا مدیرِ اعلیٰ ہوں۔ سٹوڈنٹ ہیرلڈ طلبہ کے مسائل اور یونیورسٹیز اور کالجز کی خبریں شائع کرتا ہے، حالیہ دنوں میں جمعیت کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ پر حملہ کیا گیا جسے سٹوڈنٹ ہیرلڈ میں شائع کیا گیا، اسی وجہ سے مجھ پر حملہ ہوا۔

جودت سید کا تعلق بہاءالدین یونیورسٹی سے ہے اور وہ طلبہ کے میگزین دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ میں بطور مدیر اعلی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر قیصر جاوید نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ جمیعت کے طلبہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں ہونے والی پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو تی۔ انھوں نے ملک بھر میں اسلامی جمیعت طلبہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے جلد از جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں جمعیت کے کارکنان کی جانب سے طلبہ پر تشدد کیے جانے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئی تاہم حکومت یا یونیورسٹی انتظامیہ نے اس تنظیم کو بین کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے