ترکیہ ۔ یونان تعلقات در پیش متعدد مسائل کے باعث اتار چڑھاو کے حامل کشیدگی کے ایک دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ کشیدگی ، زیادہ تر یونانی فریق کی انتہا پسند پالیسیوں اور اشتعال انگیزیوں سے اور ترکی کا سفارتی اور فوجی مظاہرہ کہ وہ ان پالیسیوں کو قبول نہیں کرتا اور اشتعال انگیزیوں کا یکساں یا پھر کئی گنا زیادہ جواب دیتا ہے، سے تعلق رکھتی ہے۔اگرچہ پہلی نظر میں دوطرفہ طور پر بعض سخت بیانات کا مشاہدہ ہوتا ہے تو بھی اس تناو کے عقب میں در اصل تاریخی اور جیو پولیٹیکل تنازعات کارفرما ہیں۔ کچھ عرصے سے باہمی تعلقات میں کشیدگی موجود ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو مزید طول دینے کا سد باب کر لیا گیا تھا۔ لیکن یونان کی جانب سے 23 اگست کو ترک لڑاکا طیاروں کو ایس۔300 راڈار کے ذریعے لاک کیے جانے کے باعث دونوں ممالک میں تناو نے ایک نیا رخ پکڑ لیا ہے۔
سیتا سیکیورٹی ریسرچ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔
آیا کہ کیوں ایس۔300 سسٹم سوال کا جواب تلاش کرتے وقت چند معاملات کے پیش پیش ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان میں سے پہلا معاملہ دونوں ممالک میں عام انتخابات کا سلسلہ قریب پہنچنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یونان میں عنقریب قبل از وقت انتخابات منعقد ہوں گے، لہذا یونان کی داخلی سیاست میں انتخابات کا وقت قریب آنے پر ترکیہ ، اس ملک کے ایجنڈے میں نمایاں حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ ترکیہ میں بھی سال 2023 میں انتخابات کا انعقاد کیا جائیگا۔ گو کہ یونان ترکی کے سلسلہ انتخابات میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تو بھی موجودہ کشیدگی انتخابی عمل کےد وران بحث و تکرار کے نمایاں عنوان کی ماہیت اختیار کر سکتی ہے۔ دوسرا سبب حالیہ برسوں میں یونان اور ترکیہ کے مابین عسکری فرق اور اسلحہ کی دوڑ میں ترکیہ کے ہاتھ مزید مضبوط سے تعلق رکھتا ہے۔ یونان ، ترکیہ کے دفاعی صنعت میں اہم اقدامات کے بر خلاف ایک طویل عرصے سے اپنے آپ کو گھاٹے میں ہونے کا تصور کرتا چلا آرہا ہے۔ اس عسکری استعداد اور طاقت کی بدولت میدان میں ترکیہ کے اہم سطح کی فوقیت قائم کرنے کے جواب میں یونان کے ناکافی اور تاخیر سے اقدامات اٹھانے کو ایک کمزوری کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ ڈراونز کی ٹیکنالوجی میں ترکیہ کی ترقی یونان کو مشکلات سے دو چار کرتے ہوئے اس کی بے چینی کا موجب بنی رہی ہے۔
یونان کا اصل مقصد ترکیہ کو موجودہ تنازعات کی آڑ میں اشتعال دیتے ہوئے یورپ کو اپنی صف میں شامل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تناظر میں یونان کی اشتعال انگیزیوں کے برخلاف ترکیہ کے سخت گیر جواب دینے کی توقع کی جاتی ہے اور اس رد عمل کو خطہ یورپ میں پھیلاتے ہوئے ترکیہ مخالف بیانات کو عام کرنے کا ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ نقطہ نظر ایک طویل عرصے سے ترکی کے برخلاف یونان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ خاص طور پر یوکرین کی جنگ چھڑنے کے بعد ایتھنز انتظامیہ ترکی کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت سے پریشان نظر آتی ہے۔ ترکیہ کی مشرق وسطیٰ میں حالات کو معمول پر لانے کی پالیسی بھی حکومت یونان کو بے چین کر رہی ہے۔ کیونکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ترکیہ کے کشیدہ تعلقات نے ایتھنز کو سکھ کا سانس دلا یا تھا اور اس نے ترکیہ کو بحیرہ روم کی گیس کے معاملے سے دور رکھنے کا موقع حاصل کیا تھا۔ تاہم اب ترکیہ کی مشرق وسطی میں موجودہ پالیسیوں کے ساتھ حالات نے دوبارہ پلٹا کھایا ہے جن نے یونان کو ایک بار پھر ترکی مخالف پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔ دوسری طرف، یونان تریہ کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کابہانہ بناتے ہوئے ایجین جزائر کو مسلح کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور فرانس اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں کے ذریعے ترکیہ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے ہتھیاروں پر خرچ کرنے والی رقوم کو قانونی حیثیت دینے کے درپے ہے۔ یہ صورتحال ملک کی داخلی پالیسیوں میں قرضوں کی دلدل میں پھنسی حکومت کے ہاتھ کو نہ صرف تقویت دلا رہی ہے بلکہ امریکہ اور فرانس جیسے ممالک کو با آسانی اسلحہ فروخت کرنے پر آمادہ بھی کر رہی ہے۔
ایک اور وجہ یہ ہے کہ یونان مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ کی قدرتی گیس کی تلاش سے بے چین ہے۔ ترکیہ جو کہ عبدالحمید خان نامی اپنے بحری جہاز کے ذریعے قدرتی وسائل کی تلاش میں سرفہرست ممالک میں سے ایک بن گیا ہے، ایتھنز میں بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس لیے ایتھنز کشیدگی بڑھا کر قدرتی گیس کی تلاش میں ترکیہ کو تنہا چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس وقت بھی یونانی لابی نے اپنی تمام تر کوششیں اس مسئلے پر مرکوز کر رکھی ہیں۔
ایس 300 تناؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب کے بعد کشیدگی کے دور میں داخل ہوں گے۔ درحقیقت ایس 300 پر صدر ایردوان کا انتہائی سخت بیان اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ یقیناً، فی الوقت یونان اور ترکیہ کے درمیان مسلح تصادم یا جنگ کا امکان زیادہ قوی نظر نہیں آتا۔ تاہم اگر یونان کا تناؤ بڑھانے کا انداز بدلتا ہے اور اس پر ترکی کا ردعمل مزید سخت ہوتا ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات سیاسی اور سفارتی تناؤ سے آگے بڑھنے کا امکان ضرور موجود ہے۔
