فرانسیسی اخبار لی موندے میں کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان ایک عظیم ثالث ہیں جو یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
اخبارکے کالم نگار Alain Frachon نے ” عظیم ثالث ایردوان ” کے زیر عوان اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ صدرایردوان کے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن دونوں کے ساتھ بڑےگہرے تعلقات ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا یکم ستمبر کو فرانسیسی سفیروں سے خطاب، "کون چاہتا ہے کہ ترکی روس سے بات کرنے والی دنیا کی واحد طاقت ہو؟کے الفاظ کی یاد دہانی کرواتے ہوے لکھا ہے کہ میکرون کا سوال، ” ایردوان ہی کیوں؟ دراصل ان کی حسد کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر (ماکرون) سچ کہہ رہے ہیں۔ ترک صدر ایردوان یوکرین اور روس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
مضمون میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ بحیرہ روم کو بحیرہ اسود سے جوڑنے والے آبنائے میں تر۴کیہ کو بڑی کلیدی حثیت حاصل ہے ترکیہ جغرافیائی اور تاریخی لحاظ سے یوکرین اور روس دونوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ملک ہے۔
کالم نگار نے کہا ہے کہ یاد رہے کہ ترکی نے یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کی مذمت کی تھی اور پوتن سے کریمیا ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، نیٹو کے رکن ترکی نے روس پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔
کالم نگار کے مطابق ترکی نے دیگر یورپی ممالک کی طرح یوکرین کو ہتھیاروں کی امداد فراہم نہیں کی ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ صدر ایردوان جو زیلنسکی کا گرمجوشی اور حامی ہے پوتن کے بھی بہت قریب ہے اور اس طرح ایردوان ایک عظیم ثالث کا کردار ادا کررہا ہے۔
اخبار کے مطابق ترکی کی ثالثی نے یوکرین کی بندرگاہ کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اناج کی برآمدات کے لیے کھول دیا۔ زپوروزئے نیوکلیئر پاور پلانٹ بھ جہاں روسی افواج کو خطرہ لاحق تھا میں اقوام متحدہ کے معائنہ بھیجنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
کالم نگار کے مطابق یوکرین روس جنگ کے آغاز میں جب صدر ایردوان نے استنبول میں امن کے لیے دونوں فریقین کو یکجا کیا تو دنیا میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ صدر ایردوان دشمنوں کو ایک چھت تلے جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
