اسلام آباد: پولیس افسران کودھمکیوں کے کیس میں شامل تفتیش نہ ہونے پرپولیس نے عمران خان کو نوٹس بھیج دیا جبکہ بابر اعوان کا کہنا ہے کہ موقف وکیل کے ذریعے تحریری طور پر ریکارڈ پر لایا گیا،حکومتی وکیل کا بیان گمراہ کن ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف 20 اگست کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض یکم ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کی تھی، یکم ستمبر کو عمران خان عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں عدالت کی جانب سے پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا تھا۔
عمران خان یکم ستمبر کی دوپہر انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے، جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 ستمبر تک توسیع دے دی تھی، تاہم اب اسلام آباد پولیس نے دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش نہ ہونے پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے انسداد دہشت گردی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، آپ عدالتی حکم کے باوجود شامل تفتیش ہوئے اور نہ ہی موقف پیش کیا۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کونوٹس میں جمہ کو تین بجے بلایا گیا تھا، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر جواب دیں۔ تھانہ مارگلہ پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کر رکھا ہے۔
دوسری جانب عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ عمران خان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد اپنا موقف پولیس کے سامنے پیش کر دیا تھا، موقف وکیل کے ذریعے تحریری طور پر ریکارڈ پر لایا گیا، حکومتی وکیل کا یہ کہنا کہ کوئی موقف نہیں دیا گمراہ کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمے کا کل تنازعہ تقریر کے دو جملے ہیں، جن میں عمران خان نے آئی جی اور ڈی آئی کے خلاف لیگل ایکشن لینے کا عندیہ تھا، مقدمے میں نہ کسی برآمدگی کا سوال ہے نہ ہی دہشت گردی کا کوئی عنصر شامل ہے، ایک بار پھر عمران خان کی طرف سے وہی تحریری موقف بھجوا رہے ہیں، عمران خان کے خلاف امپورٹڈ کا مائنس ون فارمولا ناکام بنائیں گے۔
