کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی اورنج لائن فعال ہونے جا رہی ہے ۔ یومیہ کراچی کے پچاس ہزار شہری اورنج لائن سے استفادہ کرسکیں گے۔
کراچی کے شہریوں کو سستی اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے سال 2014 میں بی آرٹی یعنی بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کی بنیاد رکھی گئی۔ 2016 میں بی آڑ ٹی کے سب سے چھوٹے روٹ یعنی اورنج لائن بس منصوبے کا تعمیراتی کام شروع ہوا جسے 2017 میں مکمل ہونا تھا۔
سن 2016 سے سن 2020 تک سندھ حکومت اورنج لائن کے ٹریک کی تعمیر اور اسے فعال کرنے کی کوشش کرتی رہی پھر وفاق کے ماتحت ادارے سندھ انفرااسٹریکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کو منصوبے میں شامل کر لیا ۔ دوبارہ کی جانے والی منصوبہ بندی کے بعد تعمیراتی کام کا تخمینہ ایک ارب چالیس کروڑ روپے سے بڑھ کر دو ارب بیس کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
بی آر ٹی اورنج لائن کے روٹ پر چلانے کے لئے چائنا سے 20 جدید بسیں منگوائی گئی ہیں ۔ اورینج لائن بس منصوبہ چار کلومیٹر طویل ٹریک پر مشتمل ہے،،،جس پر چار بس اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ٹاون میونسپل آفس اورنگی ٹاون بس اسٹاپ سے سوار ہونے والے مسافر میٹرک بس اسٹیشن تک سفر کر سکیں گے ۔ جناح ویمن یونی ورسٹی پر اترنے والے مسافروں کو فی الحال گرین لائن کے بورڈ آفس بس اسٹیشن تک جانے کے لیے کر پیدل جانا ہوگا جس کے بعد وہ آگے کا سفر کر سکیں گے اس بس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے سندھ حکومت نے فنڈ دیئے ہیں سندھ حکومت نے منصوبے کو فعال کرنے اور دیکھ بحال کےلیے سندھ انفراسٹرکچر کمپنی سے تین سال کا معاہدہ کیا ہے۔ واضع رہے کہ گرین لائن بس منصوبہ بھی سندھ انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔
کراچی میں ایک اور بس سروس اورنج لائن فعال ہونے کے قریب
القمر
