سرگودھا سے عثمان شیخ
محکمہ خوراک اور انتظامی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے سبسڈی پر ملنے والی گندم کا آٹا متعدد فلور ملز مالکان نے مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے ذرائع کے مطابق حکومت کی ہدایت پر عوام کو 490روپے کا دس کلو آٹے کے تھیلے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ خوراک سبسڈی پر فلور ملز گندم دے رہی ہے سبسڈی والی گندم کوپیس کرآٹا بنا کر انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ پوائنٹس اور دکانوں کو دینا ہوتا ہے لیکن بعض فلور ملز دکانداروں کو منظور شدہ کوٹہ کے مطابق نہیں دے رہے ہے ان دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں روزانہ آٹے کے گٹو نہیں مل رہے ہیں اورجب ملتے ہیں منظور شدہ کوٹہ پورا نہیں ملتا جب ان ملز انتظامیہ کو بتایا جائےتو انکا کہنا ہوتا ہے کہ محکمہ خوراک کے افسران کو سبسڈی والی گندم کے گٹو دئیے جاتے ہیں اس لئے مقررہ کوٹہ نہیں مل سکتا ان دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس کی شکایت متعدد بار متعلقہ حکام سے کی ہے لیکن کچھ نہیں ہوا عوام کا کہنا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس اور مانیٹرنگ سخت نہ ہونے کی وجہ سی بعض پوائنٹس سنٹر اور دکاندار شناختی کارڈ ہونے پر اس وقت تک آٹا فروخت کرتے ہیں جب تک سرکاری اہلکار موجود ہوتا ہے انکے جاتے ہی فروخت روک دی جاتی ہے اور بعض دکاندار مزید سامان کی خریداری سے مشروط کردیتے ہیں اور بعض تھیلے کھول کر60روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ بعض ہوست پعست ملز انتظامیہ گندم سے دوسرے اجزاء نکال کرآٹا فروخت کر رہے ہیں جس وجہ سے آٹا معیاری نہ ہونے سے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں عوام نے انتظامیہ سے معیاری آٹے کی ترسیل بہتر بنانے کے لئے نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
