ترکیہ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شنَ توپ نے آئرش پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاع کی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین چارلس فلاناگن اور ان کے ہمراہی وفد کو شرفِ ملاقات بخشا ہے۔
شنَ توپ نے دارالحکومت انقرہ میں ترکیہ کی قومی اسمبلی میں اپنے استقبالیہ میں ترکی اور آئرلینڈ کے درمیان دیرینہ دوطرفہ تعلقات پر اپنے اطمینان کا اظہار کیاہے۔
شَن توپ نے کہا کہ ، تعلیم، سائنس ٹیکنالوجی اور صحت جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے اور بین الپارلیمانی تعلقات کو بھی اعلیٰ سطح پر لے جایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر جائزہ لیتے ہوئے، شنَ توپ نے کہا کہ ترکی نے 40 سال سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، اور یہ کہ وہ اپنے جغرافیہ کے لحاظ سے بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام جیسے ممالک میں مختلف ناموں سے کام کرنے والی علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ انہوں نے PKK کو دہشت گرد تنظیموں کی یورپی یونین (EU) کی فہرست میں رکھنے کے لیے آئرلینڈ کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
شَن توپ نے فیتو دہشت گرد تنظیم (FETO) کے بارے میں جس نے 15 جولائی 2016 کو بغاوت کی کوشش کی تھی سے متنبہ کیا ہے۔
شَن توپ نے کہا کہ ترکی بیرون ملک اور ملک میں تنظیم کے فرار ہونے والے ارکان کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبرص میں ترک فریق کو نظر انداز کرنے والے یورپی یونین (EU) کے ممالک کا نقطہ نظر حل کو مشکل بنا دیتا ہے، ترکیہ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ شمالی کے صدر ایرسین تاتار کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے پیش کردہ تجویز کی حمایت کرنے کی بھی درخواست کی۔
