English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انٹر بینک میں ڈالر 236 روپے کا ہوگیا

القمر

روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور انٹربینک میں صبح کاروبار کے دوران ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 1.68 روپے کی گراوٹ دیکھی گئی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان(ایف اے پی) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی کرنسی 0.71 فیصد گرنے کے بعد صبح 11:35 بجے 236 روپے فی ڈالر میں مل رہی تھی جبکہ گزشتہ روز پاکستان روپیہ 234.32 روپے فی ڈالر پر بند ہوا تھا۔

اس حوالے سے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے کہا کہ روپے پر بہت زیادہ دباؤ ہے کیونکہ دوست ممالک جنہوں نے پیسے دینے کا وعدہ کیا تھا، انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے رجحان بدل گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس وقت افغانستان اور ایران سے ڈالر اور سامان کی اسمگلنگ عروج پر ہے۔

ظفر پراچا نے اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ حکومت کی جانب سے غیر ضروری اور لگژری اشیا کی درآمد پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کو قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں دباؤ پڑا ہے جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر ‘تقریباً ختم ہو چکا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں جو یومیہ ڈھائی سے 3 کروڑ کے درمیان ڈالر فروخت کرتی ہیں وہ اب اتنا فروخت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

البتہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 240 روپے سے زیادہ نہ بڑھے لیکن انٹربینک اور گرے مارکیٹ میں نرخ بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایکسچینج کمپنیوں پر مزید قواعد و ضوابط نافذ کیے ہیں جس کے بعد لوگ ایکسچینج کمپنیوں میں نہیں آ رہے بلکہ اس کے بجائے گرے مارکیٹ جا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر باضابطہ کی بجائے بے ضابطہ طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور پشاور میں 248 روپے جبکہ افغانستان میں 250 سے 252 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

ظفر پراچا نے حکومت پر ‘توجہ نہ دینے اور اخراجات کو کنٹرول نہ کرنے’ پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مطلوبہ امداد نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ‘اعتماد کے فقدان’ کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ کے رجحاننات بدل گئے ہیں اور دیوالیہ پن کے بارے میں بات چیت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ جب تک پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم نہیں کیا جاتا یا دوست ممالک سے رقوم موصول نہیں ہوتیں اس وقت تک روپیہ دباؤ میں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے، تجارتی بنیادوں پر اور یورو بانڈز کے ذریعے فنڈز کا حصول ممکن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یہ مسلسل 10 واں سیشن ہے جب روپیہ گرا ہے، عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق گزشتہ 9 سیشنز کے دوران روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 15.72 روپے یا 6.91 فیصد کمی واقع ہوئی۔

منبع: ڈان نیوز

The post انٹر بینک میں ڈالر 236 روپے کا ہوگیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے