صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ترکیہ کے براعظم ایشیا کی جانب کھلنے والے ایک دریچے کی ماہیت حاصل کر چکی ہے ۔
صدر ایردوان نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم شنگھائی تعاون تنظیم کو ایشیا کے رواداری ماحول اور قدیم ثقافت کے عصر ِ حاضر میں نمائندے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس بنا پر ہم اس تنظیم کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کو اہمیت دیتے ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں سے ہماری ڈائیلاگ خصوصی حیثیت کی وساطت سے یہ تنظیم ہمارے لیے خطہ ایشیا کی جانب کھلنے والے ہمارے دریچوں میں سے ایک بن چکی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ترکیہ کا مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پُل کا کردار بے نظیر مواقع فراہم کر رہی ہے ، اس مفاہمت کی روشنی میں ہم سیکیورٹی سے لیکر معیشت تک، توانائی سے لیکر مواصلات تک اور سیاحت سے لیکر زراعت تک ہر شعبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں مسائل جہاں شمولیت کی ماہیت اختیار کر لیتے ہیں، باہمی تعاون کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ترک صدر نے بتایا کہ ترقی یافتہ کورونا وبا کے دوران اچھا امتحان نہیں دے سکے، بطور ترکی ہم نے 161 ممالک اور 12 بین الاقوامی تنظیموں کو امداد فراہم کی ہے۔ ہم نے بذات خود تیار کردہ ٹرکو واک ویکسین کو انسانوں کے استعمال کے لیے پیش کیا۔
عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب ایردوان نے کہا کہ ہم کہیں زیادہ منصفانہ نظام کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں ،”ہمارا مقصد لوگوں اور انسانی اقدار کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے خطے اور اس سے باہر امن کی پٹی قائم کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا وہ بحیرہ اسود کے زریعے یوکرینی اناج کی ترسیل کے لیے اقوام متحدہ اور جنگ کے فریقین (روس-یوکرین) کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
صدر نے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اوریہ ہر روز اپنا گھناؤنا چہرہ دکھاتی ہے، "اگرچہ ہم زیادہ تر وقت تنہا رہ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
