English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اب قبرصی ترک خودمختیار ریاست کے منصوبے کے سوا کوئی بات نہیں ہوسکتی: صدر ایرسن تاتار

القمر

شمالی قبرصی ترک جمہوریہ   کے صدر ایرسن تاتار نے کہا کہ اگر قبرص میں کوئی معاہدہ کرنا ہے تو شمال میں ایک خودمختار ترک ریاست کے لیے معہادہ ہونا چاہیے ۔

صدر تاتار نے اپنے دورہ نیویارک اور قبرص کے مسئلے کے حوالے سے انادولو ایجنسی کو جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ  انہوں نے اپنا نیا وژن (قبرص میں دو ریاستی حل) اقوام متحدہ (یو این) کو اپریل 2021 میں جنیوا میں پیش کیا تھا، تاتار نے کہا کہ ترک فریق کی خیر سگالی ختم ہو چکی ہے اور یونانی قبرصی فریق  قبرصی ترکوں کی پراہ کیے بغیر   اپنی مملکت   کے امور میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبرصی  یونانی اپنی خودمختاری کو شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ  تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاتار نے زور دے کر کہا کہ اگر ترکی کی ضمانت ختم ہو جاتی ہے اور ترک فوجی جزیرے سے نکل جاتے ہیں تو ترک قبرصیوں کے لیے جزیرے پر اپنا وجود برقرار رکھنا ممکن نہیں  رہے گا۔

صدر تاتار  نے  کہا کہ اگر قبرص میں کوئی معاہدہ ہونا ہے تو شمال میں ایک خودمختار ترک ریاست ہونی چاہیے۔ ایک خودمختار ترک ریاست کے بغیر، ہم کبھی بھی اس پالیسی، اپنے قومی مفادات اور قومی مقاصد کو آگے نہیں بڑھا سکیں گے۔ہم اس سلسلے میں  پرعزم  ہیں۔ اگر پوری عالمی برادری ہمارے خلاف ہو تب بھی ہم سب سے اہم ہیں” ہمیں اپنے وطن ترکیہ  اور کچھ دوست ممالک کی حمایت سے اس پالیسی کو جاری رکھنا ہے۔ جمہوریہ ترکیہ  کی حمایت کے بغیر ہم یہاں کبھی بھی اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ  اگر فریقین کے درمیان خودمختار مساوات کو یقینی بنایا جائے تو قبرص میں امن و سکون برقرار رہ سکتا ہے، تاتار نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے ترک قبرص اور یونانی قبرص دونوں کو مدد ملے گی۔

صدر تاتار نے کہا کہ وہ 24 یا 25 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ  وہ صدر رجب طیب ایردوان، وزیر خارجہ مولود چاوش اولو اور نیویارک میں ترک وفد سے بھی ملاقاتیں کریں گے، تاتار نے کہا کہ وہ اس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر ممالک کے حکام سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے