اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ڈیم فنڈ سے متعلق بریفنگ کے لیے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کو طلب کر لیا جبکہ مہمند ڈیم سے متعلق انکوائری کے لیے پیپرا حکام کو وزات آبی وسائل حکام کے ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کر دی۔
کمیٹی نے آڈٹ نہ کروانے والے اداروں کے حکام کو بھی طلب کر لیا جبکہ سیکرٹری وزارت آبی وسائل کو تین سال سے زائد عرصہ ایک ہی جگہ پر تعینات افسران کا تبادلہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کردیں۔اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے ریمارکس دیے کہ جو غلط کام ہے وہ غلط ہے اگر کوئی غلط کام کا دفاع کرے گا میں اس کو بے نقاب کروں گا۔میں کرپشن کے خلاف لگا ہوا ہوں، کچھ عناصر مجھے روکنا چاہتے ہیں۔
منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا ، اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے آڈٹ حکام کو کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو ڈی جی رکھا ہے، وہ ڈی جی پی ڈی اے تھا وہ گریڈ 19کا ہے 20کا نہیں ہے۔ اس کو واپس اسلام آباد ٹرانسفر کیا جائے۔بلین ٹری سونامی منصوبے کی رپورٹ کمیٹی میں آنے سے پہلے پبلک کیسے ہوئی۔ اس معاملے کے ذمہ دار کے خلاف ایکشن لیا جائے، جب تک کمیٹی میں رپورٹ پیش نہ ہو اس کو آپ شائع نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں پی این آر اے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی این آر اے کے چیئرمین کی رہائش کے لیے گھر بغیر اوپن ٹینڈرکے خریدا گیا، یہ خریداری 2014میں کی گئی، بغیر کسی ایڈورٹائزمنٹ کے خریداری کی گئی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس پر ذمہ داری کا تعین کرنا چاہئے، کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے، قانون سب کے لیے بنا ہے، جس وزارت میں بھی کوئی غلط کام ہوا، اس میں صرف وزیر ملوث نہیں ہوگا۔کمیٹی نے پی این آر اے کو رولز بنانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا ۔
اجلاس میں سیلاب کے باعث ڈیموں کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ رکن کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے دریا کے کنارے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات کی اجازت دی ، ان کے خلاف کیا کارروائی اب تک ہوئی ؟اجلاس میں ایک بار پھر ڈیم فنڈ کا معاملہ زیر بحث آیا ، کمیٹی نے معاملے سے متعلق ایک بار پھر رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے سیکرٹری آبی وسائل سے کہا کہ دس دس بیس بیس سالوں سے لوگ ایک سیٹ پر بیٹھے ہیں ،کم از کم تین سال سے زیادہ کسی افسر کو ایک سیٹ پر نہ رکھا جائے، جتنے بھی لوگ زیادہ عرصے سے ایک جگہ پر تعینات ہیں ان کو ٹرانسفر کریں، چیئرمین کمیٹی نے چیف انجینئرساﺅتھ محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا سے تعمیر کیے گئے ڈیموں سے متعلق استفسار کیا جس پر انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ہم نے 37ڈیم تعمیر کئے ہیں ،15ڈیم 2014تک بنائے ہیں۔
نور عالم خان نے کہا کہ ہم نے مہند ڈیم پر پہلے بھی انکوائری کی بات کی ہے،ہم نے سیکرٹری سے رپورٹ بھی مانگی ہے، اس میں میگاکرپشن ہوئی ہے اور کوئی چیز بھی سیٹ نہیں ہے،کمیٹی نے پیپرا کو ہدایت کی کہ وہ وزارت آبی وسائل حکام کے ساتھ بیٹھیں ، کمیٹی نے آڈٹ نہ کروانے والے اداروں کے حکام کو بھی طلب کر لیا۔
