English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک کو اسلامی نظام دینے کیلیے علما اتحاد کریں، سراج الحق

القمر

گلگت: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ ملک بڑی آزمائش سے دوچار، سودی معیشت،کرپشن اور بدانتظامی تباہی کی وجوہات ہیں، قوم نے سیلاب کے دوران جس طرح متاثرین کےلئے جذبہ دکھایااس کی مثال نہیں ملتی، ثابت ہوگیا کہ اگر ملک کو اہل اور ایماندار قیادت مل جائے تو یہ قوم عظیم بن کر دنیا کی امامت کرے گی۔

سراج الحق نے کہا کہ منبر ومحراب کے وارثین اور علما کی ذمہ داری ہے کہ فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر امت کو جوڑنے کےلئے کردار ادا کریں، اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوگئے تو قوم بھی انھیں معاف نہیں کرے گی اور قیامت کے روز اللہ تعالی بھی ان کا کوئی عذر قبول نہیں کرے گا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ   ملک سالہاسال فرقہ واریت کی آگ میں جلتا رہا، اس لڑائی سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوا سوائے ان کرداروں کے جو دین اور ملک کے دشمن ہیں، وقت آگیا ہے ہم مشترکات پر اکٹھے ہوں اور فرسودہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرکے ملک کو اسلامی نظام دیں۔

سراج الحق نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر کے علما کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے تصور کومدِ نظر رکھتے ہوئے آپسی بھائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔ دشمن ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم کررہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، منبرو محراب پر حملے ہورہے ہیں۔ ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور ان سے سوائے بزدلی اور خاموشی کے اور کوئی توقع بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں علمااور اکابرین امت کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہرسطح پر آواز بلند کریں۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہودی فلسطین پر قابض ، برما اور بھارت میں مسلمان دربدر، یورپ و امریکہ میں اسلاموفوبیا عام ہے۔ ہمیں متحد ہوکر ان چیلنجز اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اللہ تعالی کی مدد و نصرت ہمیں اسی وقت نصیب ہوگی جب ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دین کی سربلندی کے لیے اور ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی تباہ حال معیشت کی ذمہ داران موجودہ اور سابقہ حکومتیں ہیں۔ حکمران اللہ کے احکامات کے برعکس سودی معیشت کو جاری رکھنے پر بضد ہیں، دوسرا بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ ملک کے بجٹ کا نصف سے زائد سودی قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ کرپشن، بدانتظامی اور سودی معیشت کے ہوتے ہوئے خوشحالی نہیں آسکتی۔قوم نااہل حکمرانوں سے جان چھڑا کر اہل اور نیک لوگوں کو ووٹ کی طاقت سے آگے لائیں۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران بھی حکمرانوں نے متاثرین کو تنہاچھوڑ دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے