وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے امریکہ کی ترکیہ کو ایف۔16 طیاروں کی فروخت کے بارے میں اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ‘اسوقت یہ سلسلہ معمول کی ڈگر پر آگے بڑھ رہا ہے۔”
وزیر اچاوش اولو نے نیویارک میں ٹرکش ہاوس میں ترک صحافیوں سے ملاقات کی اور ایجنڈے پر اپنا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین اور روس کے درمیان ثالث کے طور پر ترکی کے کردار کے حوالے سےہفتہ اقوام متحدہ کے دوران ان کی متعدد دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران ترکیہ کے لیے تعریفی الفاظ صرف کیے گئے ہیں۔
چاوش اولو نے کہا کہ ترکیہ، روس اور یوکرین کے درمیان منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے گا۔
کیا امریکہ ترکیہ سے F-16 کی فروخت کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے؟ کے جواب میں ترک وزیر نے بتایا کہ "فی یہ سلسلہ معمول کے مطابق چل رہا ہے، یقیناً کانگریس کے بعض اراکین کے بیانات کی وجہ سےہر کوئی لامحالہ اس بارے میں سوالات پوچھتا ہے کہ آیا کوئی رکاوٹ ہوگی یا یہ ڈیل مشروط ہوگی، لیکن تکنیکی سطح پر بات چیت معمول کے مطابق جاری ہے۔ اور اس معاملے پر انتظامیہ بھی پر عزم ہے۔
ایس۔400 اور ایف۔35 کے معاملے میں امریکی حکام سے ہونے والے مذاکرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ "کاتسا پابندیوں کو ہٹائے جانے کے معاملے میں ہماری جدوجہد جاری ہے، اس معاملے میں امریکہ کے دہرے معیار کا مظاہرہ کرنے کا ہم اپنے مخاطبین سے براہ راست ذکر کرتے چلے آئے ہیں ۔ مثال کے طور پر اس نے بھارت پر عائد پابندیوں کو ٹھیک طریقے سے ہٹا دیا ہے۔
انہوں نے امریکی نامور تھنک ٹینک کی خارجہ تعلقات کونسل سے خطاب میں بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات کبھی بھی آسان ثابت نہیں ہوئے تا ہم ان کی نشاط مضبوط بنیادوں پر ہوئی ہے، لہذا مختلف شعبوں میں ہم مل جل کر کام کرتے ہوئے احسن کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ اور امریکہ کے مابین تین مسائل امریکہ کا پی کے کے۔ پی وائے ڈی دہشت گرد تنظیم سے تعاون، فیتو اور کاتسا پابندیاں ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر چاوش اولو نے کہا کہ "یہ تمام مسائل ہمارے لیے قومی سلامتی کا معاملہ ہیں، اور ایک اتحادی کے طور پر ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ ہماری قومی سلامتی کے خدشات کا احترام کرے گا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔ ایک دہشت گرد تنظیم کو دوسری دہشت گرد تنظیم سے لڑنے کے لیے استعمال کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول اور خطرناک ہے۔”
