خیبر پختونخواہ کی جامعات سے نکالے گئے ملازمین بنی گالہ میں احتجاج کررہے ہیں۔ ملازمین نے احتجاج کے طور اپنی ڈگریوں کو آگ لگا دی کچھ ملازمین نے ڈگریاں بھی پھاڑ دیں۔ مظاہرے میں موجود ایک ملازم کی طبعیت ناساز ہوگئی۔
مظاہرین کا کہنا ہے ہم ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز ہیں،10 ،10 سال خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ہمیں ریگولرائزیشن کے بجائے برطرف کیا جارہا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ ہماری ہی پوسٹوں پر دوبارہ اشتہارات جاری کئے گئے ہم اوور ایج ہوگئے ہیں اس پر اپلائی بھی نہیں کرسکتے۔
مظاہرین نے آج عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کسی بھی وقت عمران خان کی رہائشگاہ جاسکتے ہیں۔ جب تک ہمیں بحال نہیں کیا جاتا دھرنے سے نہیں اٹھیں گے۔ برطرف ملازمین عمران خان چوک پر شدید احتجاج، نعرے بازی کررہے ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ کے پی کے میں ہمارے ساتھ بے انصافی کا نوٹس لیں۔ یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کے تحت ہزاروں عارضی ملازمین کو برطرف کیا گیا۔ برطرف ملازمین میں بارہ سالہ ملازمت کے حامل افراد بھی شامل ہیں۔
2008 سے ملازمت کررہے ہیں ہمیں مستقل کرنے کے بجائے برطرف کر دیا گیا۔
پختونخواہ میں جامعات سے برطرف ملازمین کا عمران خان کی رہائش گاہ پر احتجاج
القمر
