وفاقی حکومت کا عمران خان کو اسلام آباد میں کسی صورت داخل نہ ہونے دینے کا حتمی فیصلہ
اکتوبر 6, 2022
القمر
اسلام آباد ( انتظار حیدری ) ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے حوالے سے وفاقی مخلوط حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے، عمران خان کو کسی صورت لانگ مارچ کے ساتھ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، اتحادی متفق ہوگئے تو رانا ثناء اللہ سابق وزیراعظم کی گرفتاری کے کے بھی تیار ہیں، وفاقی حکومت میں شامل اتحادیوں کو وفاقی وزرا کے رویوں پر شدید تحفظات سامنے آئے ہیں، وزیراعظم کابینہ ارکان کی شکایت سن کر نالاں ہوگئے، آرمی چیف کی تعیناتی بھی اہم ترین اجلاس میں موضوع بحث رہی ، وزیراعظم آئینی اختیار کے مطابق جلد فیصلہ کریں ، اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیدیا-
شفقنا نیوز کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے انتہائی اہم ترین اجلاس میں شریک ایک اہم حکومتی اتحادی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت فیصلہ کرچکی ہے کہ کسی صورت عمران خان کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں ہر صورت روکا جائیگا کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس سے ملک میں عدم استحکام آئے، وفاقی حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا غیر معمولی ہنگامی اجلاس وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اچانک طلب کیا جو جو پارٹی قائدین اسلام آباد میں موجود تھے وہ شریک ہوئے یا پھر ان کے نمائندگان نے شرکت کی-
شریک ذرائع کا یہ بتانا تھا کہ انتہائی اہم اجلاس بنیادی طور پر دو مقاصد کے لئے طلب کیا گیا جن میں سب سے پہلا مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کا اکتوبر کے وسط یا آخر میں ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے متفقہ حکمت عملی اور دوسرا آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق مشاورت کرنا تھی جبکہ اس کے علاوہ سندھ سمیت ملک بھر میں آنے والے سیلاب، معاشی صورتحال ، ضمنی انتخابات کا جائزہ لینا بھی شامل تھا۔
اجلاس وزیراعظم میاں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا تو اتحادیوں نے وفاقی وزرا کے خلاف شکایات کے انبار لگادیئے جس پر وزیراعظم میاں شہباز شریف شدید برہم ہوئے اور کہاکہ ہم نے انتہائی اہم امور کے بارے میں اجلاس بلایا مگر وفاقی وزراء کی کیا یہ کارکردگی ہے کہ ان کے اپنے اتحادی ہی ان سے نالاں ہیں؟ اتحادیوں کے تحفظات فی الفور دور کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اس کے بعد ایسی کوئی شکایت نہیں سنی جائے گی-
ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سائفر، آڈیو لیکس کے بارے میں بریفنگ دی تو تمام اتحادیوں نے واضح طور پر کہاکہ اس معاملے پر کوئی رعایت نہ برتی جائے یہ سیکیورٹی امور کا معاملہ ہے اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے متوقع لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ نے بریفنگ دی تو اسے مکمل طور پر سراہا گیا اور کہا گیا کہ اس پر کوئی رعایت نہ برتی جائے حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ کیا کہ کسی صورت عمران خان یا کسی کو بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا-
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ ایک اتحادی نے عمران خان کی گرفتاری کی بات کا تذکرہ شروع کیا تو وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ پی ڈی ایم اور وفاق میں شامل جماعتوں کی مخلوط حکومت ہے اگر آپ تمام متفق ہوں تو گرفتار کرنے میں کوئی وقت نہیں لگے گا جس پر اس معاملے کو پی ڈی ایم اور وفاقی حکومتی اتحادیوں کے سربراہی اجلاس تک موخر کردیا گیا اور جلد اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا-
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ آرمی چیف کے توسیع نہ لینے کے بیان کا تذکرہ بھی اس اہم ترین اجلاس میں ہوا اور تعیناتی کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر اتحادیوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس تصفیے کو جلد از جلد حل کرنے کا مشورہ بھی دیدیا- ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کسی صورت نہ ہونے پر اتفاق رائے ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ پانچواں سال موجودہ اسمبلی مکمل کرے گی اس کے بعد ہی آئندہ انتخابات کا اعلان بروقت کیا جائے گا اور اس سے قبل نگران سیٹ پر وزیراعظم اپوزیشن کے مشورے کے ساتھ عمل کریں گے –
اجلاس میں شریک ایک اور ذریعے شفقنا نیوز کو بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کسانوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور مطالبات کے بارے میں بھی آگاہ کیا، کسانوں کا مسئلہ بہتر انداز میں حل کرنے پر انہیں اور قمر زمان کائرہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتاتا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈالرز کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید بہتری کے امکانات بتائے تو پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادیوں نے وزیر خزانہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی اور ڈالرز کے نیچے آنے سے حکومتی امیج بہتر ہوا ہے-
اہم ترین اجلاس میں وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم اور یو این جی اے اجلاس بارے بھی بریفنگ دی، وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے رابطے کے بارے بھی آگاہ کیاجبکہ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی خصوصاً وزیر اعلی سندھ نے خصوصی بریفنگ دی- سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت کے بارے میں بھی ارکان کو آگاہ کیا گیا ، ، سابق صدر کی صحت و سلامتی کے لئے بھی دعا بھی کی گئی – اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان، خیبرپختونخوا کی صورتحال سے شرکاء کو آگاہ کیا جبکہ بلوچستان حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر اجلاس سے قبل وزیراعظم کیساتھ خصوصی ون آن ون ملاقات میں بھی صورتحال سے آگاہ کیا اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہونے والی ملاقات سمیت ضمنی انتخابات پر گفتگو کے حوالے سے بتایا گیا۔
دوسری جانب اجلاس کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے قائدین اور راہنماﺅں کا اہم اجلاس ہوا ، اعلامیہ کے مطابق کہا گیا کہ آئین اور قانون کی حدوں کو پھلانگ کر وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان کے آلہ کار بن کر فساد کی راہ ہموار کرنے سے بازرہیں، قومی سلامتی کے خلاف سازش، ڈپلومیٹک سائیفر میں ردوبدل کی تحقیقات پر کابینہ کے فیصلوں، حکومتی اقدامات کی تائیدوحمایت کی گئی ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم ریاست کے خلاف جرائم اورقومی مفادات پر ضرب لگانے کے معاملے پر تحقیقات جلد مکمل کرے، آئین وقانون کے مطابق ملوث کرداروں کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرنے کا عمل تیز کیا جائے ، اداروں کو آئین کی راہ سے ہٹانے والا غدار ، سازشی اور فسادی ہے،اس آئین شکن کو قانونی نکیل ڈالنا خود آئین کا تقاضا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان مسلسل پشاور کے بعد لاہور میں اپنے کارکنان سے حقیقی آزادی مارچ کے لئے حلف بھی لے رہے ہیں اور ہر صورت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں