کراچی: جماعت اسلامی سندھ کے امیر سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ اسلام کا عادلانہ نظام ہی محنت کشوں کے حقوق کا ضامن ہے۔ٹھیکہ داری نظام نے محنت کشوں کو دیوار سے لگا کر ٹریڈ یونینز تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔محنت کشوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار ہونا ہوگا۔
محمد حسین محنتی کاکہناتھاکہ حکومت اندرون سندھ، ڈھرکی،گھوٹکی،سکھر، جیکب آباد،نوری آبادکیمحنت کشوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔کراچی میں فیروز ٹیکسٹائل ملز کے برطرف محنت کشوں کو فوری طور پر ملازمتوں پر بحال کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ کی قیادت میں صوبائی دفتر قباء آڈیٹوریم میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر این ایل ایف سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ نے محمد حسین محنتی کو اندرون سندھ کے محنت کشوں کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی، میرپور ماتھیلو،ڈھرکی میں پابندی کے باوجود ٹھیکہ داری نظام کے ذریعے محنت کشوں کا استحصال کیا جارہا ہے۔ کراچی میں فیروزٹیکسٹائل کے پچاس سے زائد محنت کشوں کو غیر قانونی طور پر ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان محنت کشوں کے گھروں میں آج بھوک اور افلاس نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔
جماعت اسلامی سندھ کےامیر کا نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھا کہ محنت کش معاشرے کا سب سے بڑا مظلوم طبقہ ہے۔ملک میں روزانہ کی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت، افلاس،بیروزگاری نے محنت کشوں کو دیوار سے لگا دیا ہے جس کی وجہ سے آج یہ طبقہ شدید مایوسی اور مشکلات کا شکار ہے۔حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔محنت کشوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار ہونا ہوگا۔جماعت اسلامی محنت کشوں کی پشتی بان ہیاور ہم کسی بھی قیمت پر اس مظلوم طبقے کے ساتھ ظلم زیادتی برداشت نہیں کرینگے۔
