اسلام آباد : ایوان بالا میں فواد چوہدری کی جانب سے پختونوں کا مذاق اڑانے پر سینٹ سراپا احتجاج بن گئی۔
تحریک انصاف نے فواد چوہدری کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے ایوان سے معافی مانگ لی فواد چوہدری کے بیان پر سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوںکا واک آﺅٹ۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئےقائد حزب اختلا ف سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ چار نکات اٹھائے تھے سیاسی انتقام سیلاب وغیرہ مگر حکومت نے اسے سنجیدہ نہیں لیا حکومت اپنے اجلاس میں جواب نہ دینے کے لئے کورم کا معاملہ اٹھا کر اپنی جان چھڑائی، حکومت نے مخالفین پر جھوٹے مقدمات اور ٹارچر کیا ،حکومت اپنی عوام پر زہریلی گیس سے حملہ کرے گی،،جو اسرائیل اور انڈیا کرتا ہے، آج ڈالر نیچے چلا گیا انڈسٹری زمین بوس ہوگئی۔
سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ 75 سال میں ادارے کہاں ہیں کس مقام پر کھڑے ہیں، ملک کو عدالت ادارے سب نے نقصان پہنچایا، ملک میں مخصوص طبقے کی حکمرانی غریب کی کوئی بھی نہیں سن رہا ہے،سوچی سمجھی سکیم کے تحت ملک کو تباہ کیا جارہا ہے اور اس میں سب شریک ہیں،سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی مفادات کے لئے یہاں پر باتیں کی جاتی ہیں ٹھوس اقدامات کوئی نہیں کئے جاتے۔ افغانستان میں ڈالر 85روپے کا اور پاکستان میں 200روپے سے زیادہ ہے۔
سینیٹر شفیق ترین نے مختصر تقریر کرتے ہوئے فواد چوہدری کی جانب سے پختونوں کے خلاف بات کرنے پر شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر حکومتی اراکین نے فواد چوہدری کے رویے کے خلاف ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔
