اقوام ِ متحدہ کی جنرل کمیٹی نے سیلاب زدہ حکومت پاکستان اور عوام کی امداد سے متعلق قرار داد کو متفقہ طور پر قبول کر لیا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور 151 ممالک کے تعاون سے پیش کردہ بل کو بلا کسی اعتراض کے قبول کر لیا گیا ہے۔
193رکنی کمیٹی کی طرف سے اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی موسمیاتی فنانسنگ تک بہتر رسائی ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے اور اس کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔
قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ 2020 میں شروع ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی مالی اعانت میں سالانہ 100 بلین ڈالر فراہم کرنے کا ترقی یافتہ ممالک کا وعدہ پورا نہیں کیا جا رہا ۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات کو COP27 کے نام سے جانا جاتا ہے جو نومبر میں مصر میں شروع ہو رہا ہے،COP27 کو موافقت اور لچک کے لیے اہم فنڈنگ کے بارے میں واضح کرنے کی جگہ ہونا چاہیے۔
انتونیو گوتیرس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے ترقی پذیر ممالک سب سے کم ذمہ دار ہیں، ایسا ہی معاملہ پاکستان کا ہے، جہاں سیلاب سے تقریباً 1,700 جانوں کا نقصان ہوا ہے۔
اپنے خطاب میں جنرل سیکرٹری یو این نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے انسانی امداد میں اضافہ کرے، گوتیرس نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ایک اعلیٰ سطحی ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔
