English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مجھ سے انتقام لیتے لیتے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا، نواز شریف

القمر

لندن:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ سے انتقام لیتے لیتے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔

قائد مسلم لیگ ن نے مریم نواز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا، مجھ سے انتقام لیتے لیتے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔

 انہوں نے  کہا کہ  ن لیگ دور میں عوام مطمئن تھے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کی باتیں کرنے والوں نے گھٹنے ٹیک دیئے، تحریک انصاف حکومت میں ہر چیز مہنگی ہوئی، قومی غیرت پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا، ایٹمی دھماکے روکنے کیلئے امریکا کی جانب سے پانچ ارب ڈالر دیئے جارہے تھے، لیکن ہم نے اس وقت ایبسولوٹلی ناٹ کہا۔

 سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کے دور میں جو ہوا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا، اہلیہ بیمار تھیں، بات تک نہ کروائی گئی، تین گھنٹے بعد انتقال کی خبر پہنچادی گئی، میری زندگی کے پانچ سال ضائع ہوگئے، سوال پوچھنا تو بنتا ہے، ثابت ہوگیا مقدمہ جھوٹا، سزا بھی غلط تھی، ظلم کرنے والوں کی ایک ایک چیز عوام کے سامنے آرہی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ مریم سے عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی، بھائیوں سے ملی ہیں، اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ملاقات ہوئی، میرے ساتھ بھی تین سال کے بعد ملاقات ہو رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا ہے مجھے وہ سب مناظر یاد آرہے ہیں کہ کیسے ان کی والدہ، میری بیگم بستر مرگ پر تھیں، کس طرح سے ہمیں ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور میڈیا کے بعض عناصر بھی ہماری کردار کشی کی مہم میں شامل تھے، مذاق اڑا رہے تھے کہ ہسپتال ان کا اپنا ہے، کلثوم نواز بیمار ہیں یا نہیں، ڈرامہ رچایا ہوا ہے، کہا جاتا رہا کہ وہ تندرست ہیں، ہم پر جملے کسنے والے بتائیں کہ کیا ان کے سینے میں دل نہیں ہے، پورے خاندان کو جس کرب میں مبتلا کیا وہ سب یاد آرہا ہے۔

 نواز شریف نے کہا جب مجھے معلوم ہوا کہ غالبا 6 جولائی کو سزا سنائی جارہی ہے، میں نے کہا کہ میری اہلیہ بہت بیمار ہیں، وہ بے ہوش ہیں، کومے میں ہیں، جب سے میں آیا ہوں مجھ سے بات بھی نہیں ہوسکی، ایک ماہ کے دوران ان سے کوئی گفتگو نہیں ہوسکی، فیصلہ میری غیرموجودگی میں نہ سنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کیا اعتراض تھا کہ میری یہ درخواست بھی نہ مانی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے