English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی اسمبلی میں حکومت کی عدم دلچسپی، کئی سوالوں کے جواب نہ ملنے پر ارکان اور اسپیکر برہم

القمر

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومت کی عدم دلچسپی ، کئی سوالات کے جوابات نہ ملنے پر ارکان اسمبلی اور اسپیکر برہم ہو گئے جبکہ حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماءخالد حسین مگسی نے وزیروں کو استعفیٰ دے کر اتحادی جماعتوں کو چانس دینے کا مطالبہ کر دیا۔

دریں اثنا اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے سوالات کے جوابات نہ دینے والی وزارتوں کے سیکرٹریز کو وضاحت کے لیے طلب کر لیا جب کہ جے یو آئی (ف) کے رکن محمدجمال الدین نے وزرا ءکے(آج) نہ آنے کی صورت میں احتجاجا اسمبلی میں نہ آنے کا اعلان کردیا ۔

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا ، اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے سوال کے تحریری جواب میں وزارت مواصلات نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے عرصے کے دوران11 اپریل 2022سے ہائی ویز اور موٹرویز کے ٹول ٹیکسز سے اکٹھی کردہ کل رقم 10533.67ملین روپے ہے، مئی میں 2896.22ملین روپے، جون میں 2898.57ملین روپے جبکہ جولائی میں 2789.46 ملین روپے کی رقم ٹال ٹیکسز کی مد میں وصول کی گئی۔

رکن اسمبلی مسرت رفیق مہیسر کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ یکم جولائی 2022کو بھارت کی طرف سے فراہم کردہ بھارت میں پاکستانی قیدیوں کی فہرست کے مطابق بھارت بھر کی مختلف جیلوں میں 345سول قیدی اور 116ماہی گیر قید ہیں،نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے وزارت پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی اور ان کی وطن واپسی سے متعلق معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھاتی ہے ۔ ہمارا مشن پاکستانی قیدیوں کوضروری قانونی و مالی معاونت بھی فراہم کرتا ہے ۔

وزارت خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ افغان وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت 47 پاکستانی شہری افغانستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔افغانستان کی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی معلومات موصول ہونے پر کابل میں پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے معاملہ کو فوری طور پر افغان حکام کے سامنے اٹھایا گیا اور قیدیوں کی قومی حیثیت کے تعین کیلئے ان کوقونصلر رسائی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ۔

اجلاس میں پاور ڈیژن کے سوالوں کے جواب نہ آنے پر اسپیکر اور ارکان اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا، رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ یا تو وقفہ سوالات ہی ختم کرلیں،یہ وزراءکی حالت ہے، وزراء موجود نہیں ہیں ، موجودہ حکومت نے سب سے بھاری کابینہ لی ہے، یہ کیا تماشا ہے، ہم سوالات پر محنت کرتے ہیں ، اس طرح کریں کہ سال کے آخرمیں ایک اجلاس بلا لیں اور سارے سوال اس میں جمع کر لیں۔

اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ممبران محنت سے سوال کرتے ہیں۔ پاور ڈویژن نے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا ، آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے،ہر سوال کا جواب آنا چاہئے، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور سید خورشید شاہ نے کہا کہ جن وزراتوں کے جواب نہیں آئے ان کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے، جس پر اسپیکر نے سوالات کے جوابات نہ دینے والی وزارتوں کے سیکرٹریز وضاحت کے لئے طلب کر لیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماءخالد حسین مگسی نے کہا کہ یہ جو حکومت والے سارے بیٹھے ہیں یہ عمران خان کو نکالنے آئے تھے مگر ان کو وزارتوں کی لالچ پڑ گئی بہتر ہے سارے استعفیٰ دے دیں ، رویوں کا بھی مسئلہ ہے آتے بھی نہیں ہیں، ان سب کو استعفیٰ دے کر ہم سب اتحادیوں کوچانس دیا جائے ، رکن اسمبلی محمدجمال الدین نے وزرا ءکیوں نہیں آرہے، اگر کل یہ وزرا ء حاضر نہیں ہوئے تو ہم بھی احتجاج کر کے اسمبلی میں نہیں آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے