یوکیرینی صدر ولا دیمر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ "یوکیرین کو ڈرانا دھمکانا یا پھر روکنا نا ممکن ہے۔”
زیلنسکی نے رات گئے ٹیلی گرام اکاونٹ کے ذریعے ویڈیو شیئرنگ میں روسی قوتوں کے کل صبح یوکیرین کے متعدد شہروں پر حملوں کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کیا۔
زیلسنکی، جنہوں نے کیف میں میزائل حملوں سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کرنے والی تعمیراتی مشینوں کے سامنے کھڑے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ "اس وقت پورے ملک میں بحالی کے کام جاری ہیں۔”
یہ بتاتے ہوئے کہ روس نے یوکرین کے شہروں پر کل 84 کروز میزائل داغے اور ان میں سے 43 کو یوکرین کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے تباہ کر دیا، زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ روس کی طرف سے داغے گئے 24 ایرانی ساختہ ڈراوننز میں سے 13 کو یوکرین نے مار گرایا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد مجھے ہر 10 منٹ بعد ایک ایرانی ساختہ خود کش شاہد ڈراونز کو مار گرانے کی اطلاع دی جا رہی ہے۔
اپنے پیغام میں زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ "یوکیرین کو خوفزدہ کرنا نا ممکن ہے ، اور محض اس کو مزید یکجا کرنا ہی ممکن بن سکتا ہے۔ ” انہوں نے اس بات کا بھی دفاع کیا ہے کہ روس جنگی محاذوں پر ناکام ہونے کے باعث ان کے ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں کر رہا ہے۔
فضائی حملوں کا خطرہ جاری ہونے کے باعث یوکرینی رہنما نے شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ یہ جنگ جیتیں گے۔
دریں اثنا، زیلنسکی نے سماجی میڈیا پر ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کی متحدہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون پر "مفید گفتگو” ہوئی ہے۔ اس دوران فضائی دفاعی نظام کی فراہمی پر بات ہوئی ہے جو کہ اسوقت ہماری اولیت کے معاملات میں سر فہرست ہے۔
