اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر تازہ میزائل حملوں سے ہمیں شدید دھچکہ لگا ہے۔
اسٹیفن دوجارک نے کل یوکرین پر کئے گئے اور 11 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائل حملوں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو نقصان پہنچا اور شہری جانی نقصان ہوا ہے۔ ان حملوں نے ہمیں شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ جنگ میں شدت پیدا کرنے کی خاطر کئے گئے یہ حملے ناقابل قبول ہیں۔ ہمیشہ کی طرح ان حملوں میں بھی سب سے بھاری بدل شہریوں کو چُکانا پڑا ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائڈن نے بھی جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ "امریکہ کو، روس کی طرف سے، کیف سمیت یوکرین کے متعدد مقامات پر کئے گئے میزائل حملوں پر نہایت افسوس ہے اور امریکہ ان حملوں کی مذمت کرتا ہے”۔
بائڈن نے کہا ہے کہ "حملوں میں شہری زخمی اور ہلاک ہوئے اور غیر عسکری اہداف زمین بوس ہو گئے ہیں۔ حملوں نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ پوتن کی یوکرینی عوام کے خلاف شروع کی گئی ناحق جنگ کس قدر غیر انسانی ہے”۔
ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹ نے حملوں کے بارے میں سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ حملے نہیں دہشت گردی ہے”۔
جرمنی کیوزیر خارجہ اینالینا باربک نے بھی سوشل میڈیا سے حملوں کا جائزہ لیا اور کہا ہے کہ "روس کے صدر ولادی میر پوتن کا، بڑے شہریوں اور شہریوں پر ،میزائل گرانا ایک گھٹیا اقدام ہے اور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ہم یوکرین کے ائیر ڈیفنس کو مضبوط بنانے کے لئے ہر اقدام کر رہے ہیں”۔
