نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کی شرکت سےمنعقدہ اجلاس نے آج اپنی دوسری نشست کا آغاز کر دیا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے کے موضوعات یوکرین کو فوجی امداد کی فراہمی، اسلحہ ذخائر کو بھرنا اور نزاعی انفراسٹرکچر کا دفاع ہیں۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹالٹن برگ اور امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے، بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ نیٹو وزرائے دفاع اجلاس کی، دوسرے دن کی نشست سے قبل ذرائع ابلاغ کے لئے بیان جاری کیا ہے۔
اسٹالٹن برگ نے نیٹو اتحادیوں کے اور 50 ممالک کی شرکت سے منعقدہ یوکرین دفاعی رابطہ گروپ کے جاری کردہ، یوکرین کے ساتھ تعاون اور مزید دفاعی سسٹموں کی فراہمی سے متعلق، پیغام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم، اقوام متحدہ کی جنرل کمیٹی میں کئے گئے اور روس کی طرف سے یوکرینی علاقوں کے غیر قانونی الحاق کی مذمت پر مبنی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ، اصولی بنیادوں کے حامل بین الاقوامی نظم و ضبط کے دفاع کے حوالے سے نہایت اہمیت رکھتا ہے”۔
امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل کمیٹی کے فیصلے سے متعلق اسٹالٹن برگ کے الفاظ کی تائید کی اور کہا ہے کہ ہم، یوکرین کی مدد جاری رکھیں گے۔ ہم، امداد میں اضافے سے متعلق نیٹو اتحادیوں کے بیانات کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔
آسٹن نے کہا ہے کہ ہم مستقبل میں سویڈن اور فن لینڈ کی بھی نیٹو میں شرکت کے منتظر ہیں۔
نیٹو وزرائے دفاع اجلاس کے دوسرے دن نیٹو نیوکلئیر پلاننگ گروپ کا اجلاس بھی منعقدہ ہو گا۔علاوہ ازیں نیٹو رکنیت کے طلبگار ممالک ‘سویڈن اور فن لینڈ’ کی شرکت سے شمالی اٹلانٹک کونسل کے وزراء کا اجلاس بھی متوقع ہے۔
