ملتان کے نشتر ہسپتال سے درجنوں مسخ شدہ لاشیں برآمد
اکتوبر 14, 2022
القمر
محکمہ صحت جنوبی پنجاب نے ملتان کے نشتر ہسپتال کی چھت سے لاشوں کی برآمدگی کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ کے مشیر چوہدری زمان گجر نے ہسپتال کا دورہ کیا اور مردہ خانے کی چھت پر کئی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں، انہوں نے لاوارث لاشوں کی تدفین کا حکم دیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کو معاملے میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری ریٹائرڈ کیپٹن ثاقب ظفر نے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر سیکریٹری مزمل بشیر کو واقعے کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی اور معاملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔
مزمل بشیر کمیٹی کے کنوینر ہیں جبکہ اراکین میں نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود رؤف ہراج، اسسٹنٹ پروفیسر اناٹومی ڈاکٹر شفیق اللہ چوہدری، سینئر میڈیکل افسر ڈاکٹر محمد عرفان ارشد اور ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس افسر کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے، ٹیم تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بتایا کہ طلبہ کی جانب سے لاشوں کو طبی تجربات کے لیے استعمال کیا جارہا تھا، انہوں نے کہا کہ لاشوں کو پہلے ہی تجربے میں استعمال کیا جاچکا تھا اور انہیں مزید طبی استعمال کی غرض سے ہڈیوں اور کھوپڑیوں کو نکالنے کے لیے چھت پر رکھا گیا تھا۔