وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ، "ہم یورپ میں توانائی کے بحران میں تحفیف لانے کے حق میں ہیں۔”
وزیر چاوش اولو نے ترکیہ-قطر اعلی حکمت عملی کمیٹی کے 8ویں اجلاس کے دائرہ عمل میں استنبول میں قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الاثانی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ یورپ میں توانائی کے بحران کو کم کرنے کے حق میں ہے ، "اس وقت ترکیہ میں توانائی کی اہم لائنیں موجود ہیں۔ ترک اسٹریم ون ہماری اپنی ضرورت کے لیے بنایا گیا تھا۔ ترک اسٹریم 2 دراصل جنوب مشرقی یورپی ممالک کو ہدف بنانے والا ایک منصوبہ ہے۔ ہم یورپ میں ان مسائل پر قابو پانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کو جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔”
متحدہ امریکہ سے F-16 طیاروں کی خرید کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک وزیر نے بتایا کہ:”امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کی رائے یہ ہے کہ ترکیہ کو F-16 طیاروں کی فراہمی نہ صرف ترکیہ بلکہ نیٹو کے لیے بھی سود مند ثابت ہو گی۔ یقیناً اس عمل کو جلد از جلد نتیجہ خیز بنایا جانا چاہیے۔ انہیں مشروطی طور پر خریدنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
انہوں نے یوکیرین اور یوکیرین کے ساتھ روابط کو نہ توڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین سے قریبی رابطہ رکھنے میں فائدہ ہے ، مغربی ممالک اور روس کے درمیان مذاکرات کا تقاضا ہونے والے معاملات پائے جاتے ہیں۔
وزیر چاوش اولو نے آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسوقت ہمارے پاس آرمینیا کے ساتھ طے شدہ کوئی مسودہ معاہدہ موجود نہیں۔ ہم باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے لازمی اقدامات پر بات چیت کر تے ہوئے ان پر عمل پیرا ہو رہے ہیں۔ اب کے بعد کے مذاکرات ترکیہ اور آرمینیا میں سر انجام پائیں گے۔
