اس سال کے آغاز میں سیاسی نقشہ نویسوں نے طاقتوروں کی خدمت میں ایسا نقشہ پیش کیا کہ اس بہار میں نئے گل کھلانے کیلئے بہت جلدی کی گئی۔ تمام تر تیزی کے پس پردہ ایک ہی بات تھی کہ کہیں عمران خان وہ تقرری نہ کرلے جو پورے ملک میں زیر بحث ہے۔
نونی نقشہ نویس نے ایک متعصب اور مخصوص سروے سامنے رکھے، اوریہ بتایا کہ عمران خان انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف نقشہ نویس نے دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی مذکورہ بالا پس پردہ نکتے پر جمع کیا۔ سیاسی نقشہ نویس نے میز پر ایک کاغذ بکھیر کر رکھا، کاغذ پر لکیروں کی مدد سے وضاحت کی گئی کہ 40 فیصد مسلم لیگ ن ہے، 25 فیصد پیپلز پارٹی، سات فیصد جے یو آئی ف، 4 فیصد اے این پی، 3 فیصد ایم کیو ایم، پانچ فیصد باپ، مسلم لیگ ق، شیر پائو گروپ اور بی این پی سمیت دیگر پارٹیاں بھی پانچ فیصد مقبول ہیں۔
اس طرح عمران خان کی مقبولیت صرف گیارہ فیصد ہے۔ کچھ باتیں حذف کرر ہا ہوں بس پھر رجیم چینج آپریشن کردیاگیا۔ اب تک کے تمام تر فیصلوں کے باوجود قومی اسمبلی میں بیس لوٹے براجمان ہیں، تیزآندھی کے باوجود یہ بیس لوٹے اپنی بے وفائی سمیت برقرار ہیں، اسی کو طاقتوروں کا کھیل کہتے ہیں۔ سیاسی نقشہ نویس نے تو بتایا تھا کہ عمران کو اقتدار سے نکال دیں گے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔
عمران خان آخری رات ایک ڈائری لے کر نکل گیا، ڈائری میں پتہ نہیں کون سی دعائیں درج تھیں کہ سیاسی نقشہ نویسوں کے نقشے دھرے کے دھرے رہ گئے، وہ جو گیارہ فیصد بنا کر پیش کیا گیا تھا، پوری قوم اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی، اوورسیز پاکستانی اس کے لئے باہر نکل آئے۔ اس کی تقریروں کے ساتھ لوگوں کے دل بولنے لگے تو پریشانی بڑھ گئی۔ اس پریشانی کا علاج ڈھونڈا گیا۔ کہا گیا …’’اس کی تقریریں لائیو دکھانے پر پابندی لگا دو، اسے مقدمات میں الجھا دو، اس کے ساتھیوں کو دبا دو…‘‘ علالج معالجے کے سارے حربے آزمانے کے باوجود لوگوں کی محبت اس کے ساتھ رہی، لوگ اس کی تقریریں بارش میں کھڑے ہو کرسننے لگے، اس کے جلسے بڑھنے لگے تو سوچا گیا اب کیا کیا جائے پھر اس کے مقابلے کیلئے ایک کرائوڈ پلر کو تمام تر طاقتیں دے کر میدان میں اتارا گیا۔ انتظامیہ کے تمام جائز و ناجائز حربے ناکام ہوئے، کرائوڈ پلر کے جلسوں میں لوگ آ ہی نہیں رہے تھے سو یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا۔
سوچا گیا کہ انتظامیہ کی مددسے پنجاب فتح کرنے کے لئے ضمنی الیکشن جیتے جائیں، ظاہری اور باطنی قوتوں کی مدد کے باوجود ن لیگ صرف تین چار نشستیں جیت سکی اگرچہ اس جیت پر انگلیاں اٹھیں مگر تمام سیاسی پارٹیوں اور قوتوں کی مددسے بھی الیکشن نہ جیتا جا سکا، ضمنی الیکشن میں ہر طرف بلانظر آیا۔ ضمنی الیکشن کے موقع پر عمران خان نے بھرپور جلسے کئے اور سچ تو یہ ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کو چاروں شانے چت کیا۔ اس کے مخالفین اور ان کے کوچ دیکھتے رہ گئے۔
یہ الگ بات ہے کہ اس کے کوچ پر باتیں ہوتی ہیں اگر ان باتوں کو مان بھی لیا جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا کوچ بہت ہوشیار ہے، کھیل پر اسے مہارت ہے، وہ گیم الٹا بھی سکتا ہے اورپھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کا کوچ بزدل نہیں بلکہ بہت دلیر ہے جو اپنے کھلاڑی کو دلیری سے کھلا رہا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر کچھ ضمنی الیکشن ہونے جا رہے ہیں جیت پھر اسی کی ہوگی کیونکہ مقبولیت اسی کو حاصل ہے۔
اب نقشہ نویسوں نے سوچا کہ آخر کیا کیا جائے؟ عمران خان کو کیسے روکا جائے؟ ایک حل یہ نکالا گیا کہ اس کےسیاسی مخالفین پر قائم کرپشن کے مقدمات ختم کردیئے جائیں کیونکہ وہ کرپشن کے خلاف بڑی زور دار تقریریں کرتا ہے۔ اس لئے اس کے مخالفین کے چہرے سے کرپشن کے بدنما داغ ختم کردیئے جائیں تاکہ وہ اُجلے چہروں کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں جتنے بھی فیصلے سامنے آئے قوم نے قبول نہیں کئے۔ سیاسی معالج کہاں رُکتے ہیں۔
سنا ہے کہ پنجاب میں دس سیٹوں والے اہل اقتدار پس پردہ عمران خان کے مخالفین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور مبینہ طور پر اطلاع ہے کہ صاحبزادے نے پنجاب کی بیوروکریسی کو پی ٹی آئی کے کام کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اس سے بھی عمران خان کو نہیں ہرایا جاسکتا کیونکہ مخالفین کے ایسا کرنے سے عمران خان مزید مقبول ہو جائے گا۔
عمران خان کے مخالفین کیا کریں، ان کے چہروں پر بے بسی ہے۔ عمران خان کے ایک دن پر غور کیجئے۔ صرف دو روز پہلے بدھ کے روز نماز فجر کے بعد اس نے ورزش کی پھر اسلام آباد کورٹ میں حاضری دی۔ ہائی کورٹ سے نکل کر اسلام آباد ہی میں ٹریڈ یونین ورکرز کنونشن سے خطاب کیا۔ اس کے بعد وہ لاہور چلا گیا۔ لاہور میں سات تقریبات میں شرکت کی۔
سب سے پہلے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی پھر ڈاکٹرز کے کنونشن سے خطاب کیا، اس کے بعد انصاف ڈاکٹرز فور م کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ختم ہوئی تو واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز سے اگلی ملاقات تیار تھی، یہ ملاقات ختم ہوئی تو پھر سوشل میڈیا پنجاب کی ٹیم سے خطاب کیا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی یوتھ ونگ لاہور کے فنکشن میں شرکت کی۔ یوتھ ونگ کی تقریب کے بعد انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کنونشن سے خطاب کیا۔
لاہور میں سات تقریبات کے بعد رات کو شرقپور میں ایک بڑے سیاسی جلسے سے خطاب کیا۔ اب ذرا سوچئے کہ پی ڈی ایم کے کس رہنما میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ایسا کر سکے، اب توبس وہ یہی سوچتے رہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے ہرائیں، اس کا مقابلہ کیسے کریں۔ بقول فیضؔ:
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
منبع: جیو نیوز
The post کیا عمران خان کو ہرانا ممکن نہیں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
