پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق بیان پر امریکی صدر جو بائیڈن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سب سے محفوظ ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ امریکا کے صدر کس معلومات پر ہماری جوہری صلاحیت کے بارے میں اس غیر ضروری نتیجے پر پہنچے ہیں جب کہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد میں جانتا ہوں کہ ہمارے پاس سب سے محفوظ جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہے؟
دنیابھر میں جنگوں میں ملوث رہا ہے،کےبرعکس پاکستان نےخاص طور پرجوہری صلاحیت کے حصول کے بعد کب جارحیت کا مظاہرہ کیا؟یہ حقیقت بھی نہایت اہمیت کی حامل ہےکہ بائیڈن کےبیان سے امپورٹڈحکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور”امریکہ سےتعلقات کی بحالی وترتیبِ نو“کےدعویٰ کی حیثیت جھلکتی ہے
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 15, 2022
سربراہ پی ٹی آئی عمران خان نے امریکی صدر کے بیان پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا جو دنیا میں جنگوں میں ملوث رہا ہے، بتائے پاکستان نےنیوکلیئرائزیشن کے بعد کب جارحیت کا مظاہرہ کیا؟ بائیڈن بتائیں کس معلومات کی بنیاد پر ہماری جوہری صلاحیت سے متعلق غیرضروری نتیجہ اخذ کیا۔
سابق وزیر اعظم نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کا یہ بیان حکومت کی خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی اور اس کے ”امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی“ کے دعوؤں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے؟ کیا یہ ”بحالی“ ہے؟ موجودہ حکومت نے نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میری سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ موجودہ حکومت ہمیں معاشی تباہی کی طرف لے جانے اور اپنے لیے این آر او 2 (NRO2) کے ذریعے مجرموں کو ملک کو لوٹنے کا لائسنس دینے کے ساتھ ساتھ ہماری قومی سلامتی سے بھی مکمل طور پر سمجھوتہ کر لے گی۔
کیا یہ ہے”ترتیبِ نو“! یہ حکومت نااہلی کےتمام ریکارڈز توڑچکی ہے۔میری سب سےبڑی پریشانی یہ ہےکہ ہمیں معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیلنےاور اپنےلئے NRO-2 کےبندوبست سمیت وائیٹ کالر مجرموں کو ملک لوٹنےکا لائسنس تھمانےسے ہٹ کر یہ سرکارہماری قومی سلامتی پر بھی مکمل سمجھوتہ کر گزرے گی۔
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 15, 2022
اس سے قبل ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی سے خطاب میں روس اور چین کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے الزام لگایا کہ پاکستان خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بے قاعدہ ہے۔
