تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں نہ بیٹھنے پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو اسمبلی میں جانے کی ہدایات دینے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست ائینی آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین کو اسمبلی میں جانے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ اسمبلی میں نہ جانے سے اراکین اسمبلی اپنے لاکھوں ووٹرز کو نمائندگی کے حق سے محروم کررہے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اسمبلی سے استعفیٰ دینا غیر جمہوری اور بچگانہ ردعمل ہے۔
اسمبلیوں میں واپسی کے علاوہ کوئی آئینی راستہ نہیں سب سے بڑی سیاسی جماعت کے اسمبلی کے غیر حاضری ہونے باعث حکومت کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے موقف
تحریک انصاف کی عدم موجودگی کے باعث حکومت نے من مرضی کی قانونی سازی کی موقف ثبوت کے طور پر سپریم کورٹ قومی اسمبلی کی کاکردگی کا جائزہ لے سکتی ہے۔
سپیکر اسمبلی نے صرف 11 اسمبلی اراکین کے استعفے منظور کئے۔سپریم کورٹ ان 11 حلقوں کے استعفی منظور کرنے پر وضاحت طلب کرے ۔عمران خان خان کے 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے سے ملک کے وسائل کا نقصان ہےعمران خان کے مستعفی ہونے دوبارہ الیکشن کروانے پڑیں گے ۔عمران خان کا پہلے اسمبلی سے مستعفی ہونا اور پھر دوبارہ الیکشن لڑنا متضاد رویہ ہے ۔حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی تحریک انصاف کو واپس اسمبلی جانے کی ابزرویشن دی ہے۔
صدر مملکت عارف علوی نے بھی استعفوں کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے.اسمبلی میں واپس جانے سے تحریک انصاف دوبارہ بھی اقتدار میں آ سکتی ہے موقف
موجودہ حکومت کو صرف دو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔ملکی موجودہ دیوالیہ مالی صورتحال نئے الیکشنز کا متحمل نہیں ہو سکتی۔درخواست عام شہری انجنئر قاضی سلیم کی جانب سے دائر کی گئی۔
عمران خان اسمبلی کیوں نہیں جاتے کیا اب پھر الیکشن ہوں گے؟
القمر
