اسلام آباد: ملک میں چند روز قبل بجلی کے طویل بلیک آﺅٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق پہلی وجہ کراچی نیوکلیر پاور پلانٹK-2 اورK-3 کے ٹاور نمبر 26پر تین سال پہلے یعنی2019 میں کیے گئے عارضی اور غیر میعاری کام ہے ،ترسیلی نظام کی اس خرابی پر اس میں 2019 میں استعمال شدہ سامان کے معیار اور کام کرنیوالوں کی استعداد پر سوالیہ نشان ہے، اس پر استعمال ہونیوالے کنیکٹرز ٹرانسمیشن لائن کے لیے نہیں بنے تھے بلکہ اس میں تبدیلیاں کرکے اس عارضی انٹر کنکشن کے لیے استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ ٹیم نے ٹاور نمبر،26، 26-A اور 27پر 2019 میں 25سال پرانے تباہ حال کنڈکٹر استعمال کئے،2019 میں اس عارضی کا م کی سنگینی اور جوہری پاور پلانٹس کی حساسیت کے باوجود مقررہ معیارات کے مطابق اس کی باقاعدہ مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی، وزارت رپورٹ کی روشنی میں فوری تادیبی کارروائی کر رہی ہے۔
بدھ کو وزارت توانائی اور پارو ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے 13 اکتوبر 2022 کو ملک کے جنوبی حصے میں ہونے والے بجلی کے بلیک آ ﺅ ٹ کی یہ وجوہات بتائی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اس بلیک آﺅٹ کی پہلی وجہ کراچی نیوکلیر پاور پلانٹK-2 اورK-3 کے ٹاور نمبر 26پر تین سال پہلے یعنی2019 میں کیے گئے عارضی اور غیر میعاری کام ہے۔ترسیلی نظام کی اس خرابی پر اس میں 2019 میں استعمال شدہ سامان کے معیار اور کام کرنیوالوں کی استعداد پر سوالیہ نشان ہے۔ اس پر استعمال ہونیوالے کنیکٹرز ٹرانسمیشن لائن کے لیے نہیں بنے تھے بلکہ اس میں تبدیلیاں کرکے اس عارضی انٹر کنکشن کے لیے استعمال کیا گیا۔
پراجیکٹ ٹیم نے ٹاور نمبر،26، 26-A اور 27پر 2019 میں 25سال پرانے تباہ حال کنڈکٹر استعمال کئے۔2019 میں اس عارضی کا م کی سنگینی اور جوہری پاور پلانٹس کی حساسیت کے باوجود مقررہ معیارات کے مطابق اس کی باقاعدہ مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی۔ وزارت توانائی اس رپورٹ کی روشنی میں فوری تادیبی کارروائی کر رہی ہے۔
