روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے زور دے کر کہا کہ یوکرین میں ایسے سائنسی ادارے موجود ہیں جن کے پاس ڈرٹی بم بنانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔
"ہم یہ معاملہ حل کر لیں گے، ہم اس طرح کی اشتعال انگیزی کو روکنے میں مصروف ہیں۔”
لاوروف نے دارالحکومت ماسکو میں اپنی ملاقات کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یوکرین میں سائنسی اداروں کے بارے میں خصوصی معلومات موجود ہیں جن کے پاس ڈرٹی بم بنانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے، لاوروف نے بتایا کہ "ہم نے مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کوئی بے جا شبہ نہیں ہے اور اس کی منصوبہ بندی کی جا سکتی تھی۔ ہم اس معاملے کو حل کر لیں گے۔ ہم اس طرح کی اشتعال انگیزی کو روکنے میں مصروف ہیں۔”
یوکرین سے اناج کی برآمد کے لیے کیے گئے معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ "یوکرین کی بندرگاہوں سے نکالے گئے اناج کامحض 5-7 فیصد غریب ممالک کو پہنچایا جا رہا ہے ۔ آدھا اناج یورپی یونین کے ممالک کو جا رہا ہے۔
"ہم نے اقوام متحدہ سیکریٹریٹ سے درخواست کی، جو ان تمام کارروائیوں کا ذمہ دار ہے اور اس کے پاس ڈیٹا ہے، وہ حتمی صارفین اور حتمی منزلوں تک اناج کی ترسیل کے بارے میں شماریاتی معلومات فراہم کرے۔ اناج کے معاہدے پر عمل درآمد کے عمل پر نظر ثانی کا انحصار اسی پر ہے۔”
