English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ارشد شریف کو سازش کے تحت قتل کیا گیا؟ شفقنا خصوصی

القمر
کینیا میں حکام کے مطابق پاکستانی صحافی ارشد شریف کی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور اس واقعے کی مصدقہ تفصیلات ابھی واضح نہیں تاہم پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔ یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کینیا میں کیا کر رہے تھے تاہم کینیا کی پولیس کے ترجمان برونو شیوسو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ارشد شریف کی موت کے پسِ منظر کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
کینیا کی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اس واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ مگدائی پولیس سٹیشن میں جمع کروائی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف جس کار میں سفر کر رہے تھے پولیس نے اسے مسروقہ سمجھا اور جب وہ عارضی رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکی تو اس پر فائرنگ کی گئی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس حکام نے اس رپورٹ کے اصل ہونے کی تصدیق کی ہے جس کے مطابق ’فائرنگ اور ایک غیر ملکی شہری کی موت کی اطلاع سب سے پہلے 23 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے موصول ہوئی تھی‘۔
رپورٹ کے مطابق ’پولیس کو ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ فائرنگ کے ایک واقعے میں کینیا کی پولیس سروس کے دستے جنرل سروس یونٹ (جی ایس یو) کے افسران ملوث تھے اور اس کے نتیجے میں لگ بھگ 50 سالہ پاکستانی شہری ارشد شریف فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں‘ کینیا کے میڈیا گروپ دی سٹار کے چیف کرائم رپورٹر سائرس اومباتی نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’واقعہ کے بعد میں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے مگر مجھے پولیس نے جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں دی۔ پولیس نے وہ علاقہ اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہاں پر رکاوٹیں کھڑی ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ میں ڈرائیور کو خراش تک نہیں آئی اور پولیس نے بتایا ہے کہ ڈرائیور محفوظ ہیں۔ اسی طرح اگر گاڑی کو روکنا تھا تو گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی جا سکتی تھی۔ براہ ارشد شریف پر فائرنگ کی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ نیروبی میں بی بی سی کی نامہ نگار بیورلی اوچینگ کا کہنا ہے کہ کینیا میں پولیس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سماجی کارکنان تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ ‘ماضی کے کئی واقعات میں پولیس پر ماورائے عدالت اقدامات ثابت ہو چکے ہیں اور پولیس کے نظام میں کئی بار اصلاحات کی کوششیں کی گئی ہیں۔’
ارشد شریف کا قتل ایک بہیمانہ فعل ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں کہ ارشد شریف کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ان کے بیرون ملک جانے کی سمجھ نہیں آ رہی۔ باقی اتنے سارے صحافی ہیں جن پہ حملے ہوئے مگر وہ پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ ان کا قتل یہ بتاتا ہے کہ اگر وہ ملک میں رہ کے دباؤ کا سامنا کرتے تو زیادہ محفوظ رہتے۔ جو لوگ ملک چھوڑ کے جانے والوں کو چور، غدار کہتے رہے انہیں خود ملک چھوڑ کے نہیں جانا چاہئیے تھا۔ یہ لوگ بیماروں کا مذاق اڑاتے تھے اور جب خود شہباز گل جیل جا کر بیمار ہو گئے تو پھر موازنہ کرنا بنتا ہے۔
 پاکستان کی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قتل کے حقائق سامنے لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے اور اس میں ملوث کرداروں کو سامنے لائے؟ ارشد شریف صحافی بعد میں مگر پاکستانی شہری پہلے تھے۔ بااختیار عالمی ادارے بھی سامنے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ کینیا کی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ بتائیں کہ یہ واقعہ شناخت غلط ہونے کی وجہ سے ہوا یا یہ قتل جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر کیا گیا۔
یہ  بات درست ہے کہ ارشد شریف کے قتل نے مبصرین، سیاست دانوں اور پریس کے درمیان غلط کھیل کے شبہات کو جنم دیا ہے۔ صحافی، جو پاکستانی حکومت کے شدید ناقد تھے، اگست میں مبینہ طور پر اپنے کام پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ اس کا ٹھکانہ عوامی طور پر معلوم نہیں تھا۔ اس کے اکثر دوست صرف اتنا جانتے تھے کہ اس نے دبئی اور لندن میں وقت گزارا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے صحافیوں کے لیے غیر محفوظ رہا ہے۔ یہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے 2020 کے عالمی استثنیٰ انڈیکس میں نویں نمبر پر ہے، جو ان ممالک کا سالانہ جائزہ ہے جہاں صحافیوں کو باقاعدگی سے قتل کیا جاتا ہے اور حملہ آور آزاد ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ارشد شریف ملک سے فرار ہوئے مگر اب  یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل تحقیقات کروا کر اس قتل کے مقاصد کو سامنے لائے۔
منگل، 25 اکتوبر 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post ارشد شریف کو سازش کے تحت قتل کیا گیا؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے