اسلام آباد (انتظار حیدری) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے لانگ مارچ کو حتمی شکل دیدی اور جمعہ سے لاہور سے اسلام آباد کی جانب بذریعہ جی ٹی روڈ آنے کا اعلان کردیا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے شدید ترین مخالف نواز شریف کی طرح جی ٹی روڈ کا ہی انتخاب کیا ہے البتہ منزل کے مقام کے حوالے سے دونوں رہنماؤں میں بڑا فرق ہے کہ عمران خان لاہور سے اسلام آباد جبکہ میاں نواز شریف اسلام آباد سے لاہور گئے تھے اور انہوں نے فیض آباد سے کاک پل کی بجائے کچہری چوک سے روات کی جانب سفر کیا تھا عمران خان بھی اپنے لانگ مارچ کو پہلے مرحلے میں 3 نومبر تک روات تک لائینگے اور پھر اگلی حکمت عملی طے کی جائے گی، پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پہلی ترجیح جلسہ بصورت دیگر دھرنا بھی آپشن میں شامل ہے، الیکشن کی تاریخ کا حکومت کو ہر صورت اعلان کرنا پڑے گا، اسلام آباد میں سرپرائز انٹری ہوگی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جوکہ اب لانگ مارچ کے آغاز تک لاہور میں ہی مقیم ہیں انہوں نے پنجاب کی قیادت کے ساتھ مل کر شیڈول مرتب کرلیا ہے، ذرائع کا بتانا ہے کہ جمعہ کو بعد از نماز جمعہ لانگ مارچ کا آغاز لبرٹی چوک سے ہوگا، جمعہ کی رات لبرٹی چوک تا شاہدرہ انٹرچینج پر لانگ مارچ کی پہلی منزل ہوگی اورعمران خان کے خطاب کے ساتھ ہی لانگ مارچ شاہدرہ پر رات گزارے گا اسی طرح اگلی منزل گوجرانوالہ ہوگی جہاں پر فیصل آباد، شکر گڑھ، سیالکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے آنے والے قافلے شامل ہونگے، اتوار کو یہ لانگ مارچ باقاعدہ شروع ہوگا تو گجرات میں وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی لانگ مارچ کا استقبال کریں گے ، لانگ مارچ کا پڑاؤ گجرات اور جہلم کے درمیان سرائے عالمگیر پر ہوگا۔
پیر کے روز نئے ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی لانگ مارچ اپنی اگلی منزل جہلم کی جانب بڑھے گا جہاں مرکزی رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری میزبانی کے فرائض انجام دینگے، منگل کے روز عمران خان اپنے لانگ مارچ کیساتھ گوجر خان سے ہوتے ہوئے روات میں پڑاؤ ڈالیں گے اور روات میں ہی رات خطاب کے ساتھ عمران خان بدھ کے روز اسلام آباد کی جانب بڑھنے کیلئے حتمی حکمت عملی مرتب کریں گے کیونکہ اسلام آباد کی حدود کا آغاز ہوتے ہی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی "میزبانی” کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے حکمت کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا۔
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ روات کے مقام پر ہی شمالی اور جنوبی پنجاب سرگودھا ، چکوال، میانوالی، بھکر، لیہ کے قافلے لانگ مارچ میں شریک ہونگے اور بدھ کے روز اسٹریٹیجی کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کی جانب اگلی منزل کا فیصلہ کیا جائیگا، ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا سے منگل کی شام قافلوں کو اسلام آباد کی جانب گامزن کرنے کا پلان مرتب کیا جارہا ہے کہ کس طرح وفاقی حکومت سے "دامن بچاتے” ہوئے مرکزی لانگ مارچ سے ملنا ہے، کشمیر کے لیے پنجاب آنے والے راستوں کے ذریعے جبکہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کو ہزارہ، پشاور اسلام آباد موٹروے سے متصل پنجاب کی شاہراہوں سے لانے کی حکمت عملی مرتب کی جائیگی-
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی، سکھر، رحیم یار خان ، ملتان کے قافلوں کو لانگ مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی اگلے روز شاہدرہ ، کامونکی یا گوجرانوالہ پہنچے کی ہدایات کی جائینگی- ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ کارکنوں کو تھکاوٹ سے بچانے کے لیے وقفے وقفے کے ساتھ انہیں لانگ مارچ کا حصہ بنانے کی حکمت عملی کے تحت اسلام آباد پہنچنے کے لیے 7 دن کا دورانیہ بنایا جائیگا البتہ مجوزہ شیڈول کے علاوہ پلان بی بھی مرتب کیا گیا ہے- اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر اورسیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے بتایا کہ لانگ مارچ کا پہلا دن 28 اکتوبر : لاہور. لبرٹی سے شروع کر کے فیروز پور روڈ سے اچھرہ،مزنگ، داتا دربار سے ہوتے ہوئے آزادی چوک پہنچے گا، ہفتہ 29 اکتوبر سے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کا سفر شروع ہو گا، انکا مزید کہنا تھا کہ لانگ مارچ 29 اکتوبر لاہور سے براستہ مریدکے، کامونکی، گوجرانوالہ پہنچے گا، ڈسکہ، سیالکوٹ، سمبڑیال،وزیرآباد، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں ، جہلم، گجر خان، راولپنڈی سے ہوتے ہوئے انشاءاللہ عمران خان 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے-
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے اعلیٰ ترین ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کسی قسم کی رکاوٹ ہمارا راستہ نہیں روک سکے گی، رانا ثنا اللہ جو مرضی کہتے رہیں ہم انہیں اسلام آباد میں ایسی سرپرائز انٹری دینگے کہ وہ دنگ رہ جائیں گے، ایک اور سوال پر کہاکہ دھرنا ہوگا یا جلسہ اس کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے البتہ ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ الیکشن کی تاریخ حکومت کو دینا پڑیگی- ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ فی الوقت ایک روزہ جلسہ کا پلان مرتب کیا گیا ہے اور اپنے مطالبات کے ساتھ پر امن منتشر ہونگے البتہ وفاقی حکومت نے صورتحال کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی تو تمام ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر عائد ہوگی-
ادھر پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان نے اسلام آباد میں 4 نومبر کو ایچ نائن گراؤنڈ پر جلسہ کی باضابطہ درخواست بھی اسلام آباد انتظامیہ کو دیدی ہے- وفاقی حکومت کی جانب سے انتطامات روکنے کے بارے میں جب مرکزی رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری سے استفسار کیا گیا اگر آپ کو آگے بڑھنے سے روکا گیا تو اس صورت میں کیا اسٹریٹیجی ہوگی تو مختصراً بولے جب وقت آئے گا دیکھ لیں گے-
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ اور "مجھے کیوں نکالا” میں جی ٹی روڈ کی مماثلت ہے۔
