English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا پروجیکٹ عمران کے باقاعدہ اختتام کا اعلان کر دیا گیا ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس مارچ کے مہینے میں فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سائفر کے معاملے، اس پر تحریک انصاف کی جانب سے ’گمراہ کن‘ سیاسی بیانیہ ترتیب دینے اور ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق واقعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’مارچ میں اُن کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی میرے سامنے پیشکش کی گئی۔ انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔‘
ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا آرمی چیف غدار ہے تو ماضی میں اُن کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی کہ اگر پوری زندگی بھی اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہ لیں۔‘
انھوں نے کہا ’اب بھی آپ چھپ کر اُن سے کیوں ملتے ہیں؟ رات کو آپ ہم سے غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن پھر دن کی روشنی میں جو کہہ رہے ہیں وہ نا کہیں۔ آپ کی گفتگو میں کھلا تضاد ہے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا اور آج کی پریس کانفرنس ایک جوابی حملہ ہے۔ عمران خان بار بار ڈرٹی ہیری کا نام لیتے رہتے ہیں تو آج ڈرٹی ہیری کی جانب سے یہ فیصلہ ہوا کہ اب مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی حالیہ چند تقاریر میں ‘ڈرٹی ہیری’ کا ذکر کیا جس کے بعد سے یہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ منگل کو پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب میں عمران خان نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایک ‘ڈرٹی ہیری’ آ گیا ہے جس کا مشغلہ ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے اُٹھاتا ہے اور ان پر تشدد کرتا ہے۔
اس سے قبل اپنی جماعت کے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور اُنہیں مبینہ طور پر برہنہ کر کے تشدد کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئےبھی عمران خان نے ‘ڈرٹی ہیری’ کا نام لیا تھا۔لیکن دونوں بار عمران خان نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ڈرٹی ہیری کسے کہہ رہے ہیں۔
ڈرٹی ہیری کا کردار 1971 میں اسی نام سے ریلیز ہونے والی ہالی وڈ فلم میں مشہور اداکار کلنٹ ایسٹ وڈ نے ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ایسٹ وڈ ایک ایسے پولیس والے کے روپ میں نظر آئےتھے جو خطرناک مجرموں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالنے کے بجائے انہیں سڑک پر گولی مار کر انصاف کرنے کا قائل تھا۔
 تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس کی ہے۔ یہ اس لیے ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا اور آج کی پریس کانفرنس ایک جوابی حملہ ہے۔ عمران خان بار بار ڈرٹی ہیری کا نام لیتے رہتے ہیں تو آج ڈرٹی ہیری کی جانب سے یہ فیصلہ ہوا کہ اب مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
 تاہم یہ کہنا  حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہو گا کہ عسکری قیادت کی اس غیر معمولی پریس کانفرنس اور بعض درپردہ ملاقاتوں کا احوال بیان کرنے کے بعد دھول بیٹھ جائے گی اور ملکی سیاست میں اٹھائے گئے طوفان پر قابو پا لیا جائے گا۔ تاہم اس پریس کانفرنس سے یہ ضرور واضح ہو گیا ہے کہ پاک فوج بطور ادارہ یہ سمجھ رہی ہے کہ عمران خان کے طرز سیاست نے ملکی مسائل میں اضافہ کیا ہے اور اس کی بدستور خاموشی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔ اسی لئے یہ پریس کانفرنس منعقد کرنے اور بعض حقائق کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور فوجی لیڈروں پر براہ راست حملوں کو مسترد کرنے اور ان کے مضمرات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔
اس پریس کانفرنس سے ایک طرف یہ واضح ہوا ہے کہ ماضی میں سیاسی معاملات میں مداخلت کو غلط مانتے ہوئے اب اس کام سے تائب ہونے کا بہ اصرار اعلان کیا گیا ہے تو دوسری طرف ملکی رائے عامہ میں تقسیم اور پیدا کی گئی خلیج کو قومی مفاد کے خلاف سمجھتے ہوئے ’حکومت وقت کو معاونت فراہم‘ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں یہ پریس کانفرنس اور اس میں سامنے لایا جانے والا پیغام بجائے خود تضاد کا شکار ہو گیا۔ اگر فوج بطور ادارہ ملکی انتظامی و سیاسی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت پر تیار نہیں ہے تو اس کی قیادت کو ایک ایسی پریس کانفرنس منعقد کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی جس کا سارا ’مواد‘ سیاسی تھا؟
موجودہ سیاسی صورت حال میں اس پریس کانفرنس سے تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ پر لامحالہ اثرات مرتب ہوں گے۔ لوگوں کے شبہات میں اضافہ ہو گا۔ لیکن یہ شکوک صرف عمران خان یا تحریک انصاف کے بارے میں ہی پیدا نہیں ہوں گے بلکہ بدقسمتی سے ملکی فوج کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کی فضا گہری ہوگی۔ یہ پریس کانفرنس اس فضا کو صاف کرنے میں موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ گو کہ فوج کو آئینی حدود میں ہی رہنا چاہیے۔ اور اگر یہ اصول تسلیم کر ہی لیا گیا ہے تو ان تمام مواقع کی نشاندہی کرنا بھی قومی تاریخ کے ریکارڈ اور مستقبل میں سبق سیکھنے کے لئے ضروری ہو گا جب فوجی جرنیلوں نے اپنی عسکری طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آئینی حدود کو پامال کیا اور عوام کے بنیادی حقوق کو مسترد کیا گیا۔
جمعتہ المبارک، 28 اکتوبر 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا پروجیکٹ عمران کے باقاعدہ اختتام کا اعلان کر دیا گیا ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے