English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی خاتون کا اپنے والد کے ہاتھوں 70 خواتین کے قتل کا انکشاف

القمر

اوہائیو: ایک امریکی خاتون نے کا انکشاف کیا ہے کہ اس کے والد سیریل کلر تھے جنہوں نے 50سے 70 خواتین کو قتل کیا اور میں نے لاشوں کو دفن کرنے میں مدد کی۔

امریکا کی مغربی ریاست او ہائیومیں ایک 45 سالہ خاتون نے تہلکہ خیز انکشاف کرکے پولیس کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس کے والد سیریل کلر تھے اور 50 سے 70 خواتین ان کے ہاتھوں قتل ہوچکی ہیں۔ خاتون کا نام لوسی اسٹڈی ہے اور اس کے والد کا نام ڈونلڈ ڈین اسٹڈی ہے۔امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بیٹی کی جانب سے باپ کیخلاف کیے گئے اس دعوے کے بعد ایف بی آئی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملزم ڈونلڈ ڈین اسٹڈی کا سال2013ء میں 75 سال کی عمر میں انتقال ہوچکا ہے۔ یعنی والد کے انتقال کے9 سال بعد بیٹی نے اس گہرے راز سے پردہ اٹھایا۔مقامی انگریزی میگزین نیوز ویک سے بات کرتے ہوئے لوسی اسٹڈی نے کہا کہ میرے والد نے 50 سے زائد قتل کیے ہیں اور مقتول خواتین کی لاشوں کو ایک کنویں میں دفنا دیا۔انہوں نے قتل کی یہ وارداتیں شراب پی کر انجام دی تھیں۔خاتون نے بتایا کہ میرے والد نے صرف خواتین ہی کو نہیں بلکہ 2 مردوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

مقامی پولیس نے لوسی اسٹڈی کے بیان کو حقیقت قرار دیا ہے۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ قتل کرنے والے ملزمان میں سے ایک ہے۔پولیس نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ڈونلڈ غالبا خواتین کو لالچ دے کر آئیوا میں موجود فارم ہاؤس پر بلاتا تھا۔ اس معاملے میں فریمونٹ کاؤنٹی شیرف دفتر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاگ اسکواڈ نے ڈونلڈ کی پراپرٹی میں کئی مشتبہ مقامات کی نشاندہی کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جس کنویں میں خواتین کی لاش دفنائے جانے کی بات سامنے آئی ہے، اس کی بورنگ کرنے میں خطیر لاگت آسکتی ہے اور اگر اس کنویں کی پوری طرح کھدائی کی گئی تو اس میں اس سے بھی کہیں زیادہ خرچ آئے گا۔پولیس کے مطابق لوسی کی خواہش ہے کہ اس جگہ کی کھدائی کی جائے اور کنویں میں پھینکی گئی خواتین کو عزت کے ساتھ دوسری جگہ دفن کیا جائے۔

لوسی اسٹڈی کا کہنا تھا کہ اس کے والد ڈونلڈ اس سے اور اس کے دیگربھائی بہنوں سے یہ لاشیں 100 فٹ گہرے کنویں میں ڈلواتے تھے۔ گرمیوں میں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ٹھیلے کا استعمال کیا جاتا تھا اور سردی کے موسم میں چھوٹی برف گاڑی کا استعمال ہوتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے