English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ ہائیکورٹ ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام پر برہم

القمر

کراچی : سندھ ہائی کورٹ میں بارشوں میں ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے علاقے زیر آب آنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیوریج کا سارا پانی سمندر میں لے کر جارہے ہیں ، سی ویو کے سامنے گٹر کا پانی جمع ہو جائے گا، کنٹونمنٹ بورڈ نے روڈوں کے بیچ میں گھڑے کھود دئیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ جس طرح کنٹونمنٹ بورڈ کام کررہا ہےاس سے کروڑوں اربوں روپے ضائع ہوجائیں گے ،کنٹونمنٹ بورڈز بھی ڈی ایچ اے کو سہولت فراہم کرنے بیٹھے ہیں ،رہائشی ٹیکس دے رہے ہیں کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں ۔

جسٹس نے کہا کہ پورے سٹی کورٹ کے سامنے 9،9 فٹ کے پائپ ڈالے گئے ہیں ،کراچی کے کئی ایسے پروجیکٹ ہیں جہاں پانی نہیں روکتا ہے ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیا پلان ہے کیا حل ہے کہاں سے کام شروع ہوگا کہاں کام ختم ہوگا ، نارتھ ناظم آباد ،گلشن اقبال ،فیڈرل بی ایریا کی پلاننگ ہوئی ، ہم نے دیکھا ہے،آپ شہری کے طور پر بات چیت کریں مسئلہ حل کرائیں ،ہم ایڈمنسٹریٹر کو بلوالیتے ہیں ۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو میٹنگ کی  اس کی کوئی آڈیو ریکارڈنگ نہیں ہوگی ،بڑے بڑے پاکستانی موجود ہیں جنہوں نے دبئی شارجہ میں ٹاؤن پلاننگ جیسے کام کیے ہوئے ہیں ،ماہرین کی خدمات حاصل کریں منصوبہ بندی کریں ۔

جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ ڈی ایچ اے اور کلفٹن میں سڑکوں کے درمیان گھڑے کھود دئیے گئے ہیں ،کروڑوں اربوں روپے کا کام ہوگا رہائشیوں کو تو اعتماد میں لیں،ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے پائپ سڑکوں کے درمیان ڈال دئیے پانی کی نکاسی کیسے ہوگی ؟رہائشیوں کو یہ تو بتائیں کرکیا رہے ہیں ؟ بارشیں جب ہوں گے پانی کہاں جائے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے