رپورٹ مونا خان
جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پرسفارت خانے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، اراکین پارلیمنٹ، سفارتکار، سویلین اور دفاعی حکام نے شرکت کی۔اس موقعے پر پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر مہمت پاچا جی نے تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 99 سال قبل 29 اکتوبر 1923 کو جمہوریہ ترکی غازی مصطفی کمال کی قیادت میں جنگ آزادی کے بعد قائم ہوا تھا۔
انہوں نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا یوم جمہوریہ کے حوالے سے ایک پیغام بھی پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا ہے،“ہم ترکیہ کے قیام کی 99 ویں سالگرہ منا کر مکمل طور پر فخر اور جوش محسوس کر رہے ہیں۔ ہم جمہوریہ ترکیہ کو بلند کرنے کے لیے اپنی بلاتعطل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی بنیاد ہم نے انتہائی مشکل حالات میں بھاری قربانیاں دے کر رکھی تھی۔“ سفیر نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ سب سے زیادہ انسانی امداد فراہم کرنے والے ملک کے طور ہم تمام مظلوموں اور ضرورت مندوں کوبلاتفریق رنگ ونسل وزبان مدد فراہم کرتے ہیں۔ہم نے ترکیہ کو ایک مثالی جمہوریت، ایک متاثر کن معیشت کے ساتھ ایک ایسے ملک میں تبدیل کیا،تمام رکاوٹوں اور ناانصافیوں کے باوجود ہم نے 2053 اور 2071 کے لیے اپنے وژن کی بنیاد رکھی۔ہم کاموں کے بنیادی ڈھانچے پر ”Türkiye Century” کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم زراعت سے لے کر سیاحت تک، ٹرانسپورٹ سے لے کر تعلیم اور صحت تک ہر میدان میں اپنے آپ سے مقابلہ کرتے ہیں اور ہم کامیابی کے لیے مسلسل قدم اٹھاتے ہیں۔
اس موقع پر جوابی تقریر میں وزیر دفاع خواجہ نے سفیر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ عقیدے، ثقافت، اقدار، تہذیب اور تاریخی روابط، باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ نے ایک علاقائی، اقتصادی، تزویراتی اور فوجی طاقت کے طور پر ترقی کی ہے۔ وزیر نے دفاعی صنعتی تعاون اور تربیت، وفود، کورسز اور مشترکہ مشقوں کے باقاعدہ تبادلے کے ذریعے افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی مصروفیات کو بھی سراہا۔
مقررین کے خطاب کے بعد ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز موسیقاروں نے خوبصورت دھنیں اورگیت پیش کیے، جبکہ ترکیہ کے ممتاز شیف کے تیارکردہ کھانوں کے ذائقوں سے مہمان لطف اندوز ہوئے۔
