وزیرآباد سے ضمیر کاظمی
ڈی پی او وزیر آباد غضنفر علی شاہ کا کہنا ہے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ اب عمران خان پر قاتلانہ حملہ کہ تحقیقات سی ٹی ڈی ہی کرے گی۔ سی ٹی ڈی معاملے کی تحقیقات کرے گی سی ٹی ڈی تھانہ میں ہی مقدمہ کا اندراج ہو گا۔
ڈی پی او نے قومی قیادت پر حملہ کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ورکر نے حاظر دماغی کر کے حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش کی۔
حملہ آور کو فوری گرفتار کرنے میں پولیس اہلکاروں نے فوری رسپانڈ کیا۔ حملہ آور کو جب گاڑی میں بٹھایا گیا تو ہجوم نے اسے مارنے کی کوشش کی۔ تحقیقات جیسے جیسے آگے بڑھے گی مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے بڑا ڈیٹیل پلان جاری کیا گیا تھا۔ 2100 سے زائد جوان ڈیوٹی پر موجود تھے۔ روٹ کی کوئی ایسی چھت نہیں جہاں پر ایلیٹ کے اور ڈسٹرکٹ پولیس کے سنائپر نہ لگائے گئے ہوں۔ ایسا پنڈال نہیں تھا جہاں ہر ایک کو سرچ کے بعد بھیجا جاتا۔ لانگ مارچ میں ہر ایک کو چیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہر اینگل سے حقائق جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ جو موبائل ملا ہے دیکھا جا رہا ہے ملزم کے کس کس کے ساتھ تعلقات تھے۔
