صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ روسی صدر ولا دیمر پوتن سے یکم نومبر کو ٹیلی فونک بات چیت میں ضرورت مند ممالک کو مفت اناج بھیجنے کے معاملے میں مطابقت قائم کر لی گئی ہے۔
صدر ایردوان نے استنبول میں نمائش و کنونشن سنٹر میں شروع ہونے والی صنعتکاروں و آجروں کی دائمی انجمن موسیاد ایکپسو میں خطاب کیا۔
دنیا کے گزشتہ تین برسوں سے کورونا وبا سے نبرد آزما ہونے اور علاقائی تناو کے جاری ہونے والے ایک کھٹن دور سے گزرنے پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے بتایا کہ "اس وبا کے اثرات تا حال محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک سمیت متعدد ممالک حالیہ برسوں میں بلند سطح کی شرح افراط زر سے نبرد آزما ہیں۔ خوراک اور توانائی کے بحران کے ساتھ اس نئی حقیقت کے پیش نظر متعدد ممالک لا چار اور بے یارو مددو گار ہیں، سب سے زیادہ متاثرہ خطہ افریقہ اور ایشیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ میں ایک لقمہ روٹی نہ ملنے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ہر بچے کا دکھ ہمارے ضمیروں کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔
’’ان المیوں کا سد باب کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ساتھ کل رات میری فون پر بات چیت میں "آئیے اس کو جی 20 میں اٹھاتے ہیں، ہم دنیا میں کیا کریں گے؟ روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران ، کیا ہمیں یہ اناج اور کھادیں ترقی یافتہ ممالک کو بھیجنا چاہیے؟‘‘ آئیے وہاں پر قدم اٹھاتے ہیں اور پسماندہ ممالک کو اناج بھیجتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہیں۔‘‘
پوتن سے ٹیلی فون بات چیت میں بھی یہ معاملہ ایجنڈے میں آنے کی وضاحت کرنے والے جناب ایردوان نے بتایا کہ پوتن نے جبوتی، صومالیہ اور سوڈان کو بلا اجرت اناج و خوردنی اشیا بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ہم نے اس پر اتفاق ِ رائے قائم کیا ہے۔ ہم رواں ماہ کی 13۔14 تاریخ کو پوتن سے بالی میں یکجا ہوتے ہوئے اس موضوع پر بات کریں گے۔ ہم اناج راہداری کے ذریعے فوری ضرورت ہونے والے افریقی ممالک کو خوردنی اشیاء کی ترسیل کو ممکن بنائیں گے۔
