English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن ڈر کی وجہ سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کررہا، عمران خان

القمر

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ جس روز میں نکلا مجھے معلوم تھا کہ انہوں نے آج یا کل مجھ پر حملہ کرنا ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں لیکن کوئی واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کر رہا کیونکہ سب ڈرے ہوئے ہیں ۔

عمران خان نے قاتلانہ حملے کے بعداسپتال سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو تو جب اللہ تعالی نے لے کر جانا ہے میں تیار ہوں لیکن یہ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ملکی مفاد کو دیکھ ہی نہیں رہے۔

عمران خان نے کہا کہ 6 ماہ پہلےایک امریکی انڈرسیکریٹری پاکستانی سفیر کو بلاکر دھمکی دیتا ہےاور  کہتاہے کہ عمران خان کونہ ہٹایاتوپاکستان کومعاف نہیں کریں گے۔ ڈونلڈلو  نے کہا کہ اگر عمران خان کو عدم اعتماد میں ہٹا دیا  جائےتو پاکستان کو معاف کر دیں گے۔ امریکی انڈرسیکریٹری کی دھمکی کے بعد  سیاست میں ضمیر  کی خریدوفراخت کی منڈی لگتی ہےاور تحریک عدم اعتماد میں حمایت حاصل کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے انڈر میری پارٹی نہیں بنی، میں نے 22 سال جدوجہد کی اور عوام میں واپس گیا۔ یہ لوگ نیوٹرل ہو نے کا دعوی کرتے ہیں ۔  ملک میں اندرونی اور بیرونی سازشیں ہورہی تھیں انہیں معلوم تھا کہ سازش ہو رہی ہے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے دعوی کیا کہ ان پر بھی   سلمان تاثیر کی طرح دین کی توہین کا الزام لگا کر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ یہ پلان تھا جو کہ میں نے 24 ستمبر کو جلسے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھاکہ رات کے 3 بجے جا کر لوگوں کے گھروں میں تشدد کیا، اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ اسلام آباد میں  پی ٹی آئی کے پر امن احتجاج پر شیلنگ کی۔انہوں نے سمجھا  کہ پی ٹی آئی تو ممی ڈیڈی پارٹی ہے  جلدختم ہوجائے گی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہمیں نااہل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ہم نے اس معاملہ پر عدالت سے رجوع کیا عدالت نے 8 مرتبہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ریورس کیا ۔ وہ پارٹی جو عوام سے پیسہ اکھٹا کرتی ہے اس بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان سب کے باوجود پی ٹی آئی جیت گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ4 لوگوں نے بند کمرے میں مجھے مروانے کا فیصلہ کیا، ویڈیو بنا کر رکھی ہے، کہا تھا مجھے کچھ ہوا تو ویڈیوز جاری کردینا۔حکومت میں ساڑھے تین سال رہا، اداروں اور ایجنسیز میں سب کو جانتا ہوں، وہ بتا دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلسوں کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، ملکی تاریخ میں اتنی عوام پہلے نہیں نکلی، یہ اس سے خوفزدہ تھے، 3 لوگوں نے منصوبہ بنایا، ایک دن پہلے دیکھا کہ کراؤڈ بڑھتا جا رہا ہے تو انہوں نے مارنے کا منصوبہ بنایا۔

عمران خان نے ویڈیو خطاب میں انکشاف کیا کہ ہم پر دو برسٹ مارے گئے دونوں نے  الگ سمتوں سے  نشانہ بنایا۔ جیسے ہی میں ٹھیک ہوں گا میں یہاں سے سیدھا سڑک پر نکل جاوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا، اور آپ (عوام) سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کے لئے  باہر نکلنا ہے۔ ہم نے ان چوروں کی غلامی نہیں کرنی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ تین لوگ اپنے عہدوں سے مستعفی نہیں ہوتے تب تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا اور میں سڑک پر آتے ہی دوبارہ اسلام آباد کی کال دوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے