نان ننگ(شِنہوا) چین میں ایسے موقع پر جب آن لائن خریداری کی سالانہ مہم “ڈبل 11” قریب آرہی ہے، ملک کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خود اختیارعلاقے کے صدر مقام نان ننگ کی ایک شہری چھین ننگ نے اپنے خاندان کے لیے ایک آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم کے ذریعے باسمتی چاول کے دو تھیلے منگوائے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے عمدہ ذائقے کے حامل یہ چاول صرف تین دن میں گوانگژو کے گودام سے چھین تک پہنچ سکتے ہیں۔
چھین نے کہا کہ “میں نے یہ چاول ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں کھا کے دیکھے ہیں ۔یہ خوشبودارہیں اور ان کا ذائقہ بہت اچھا ہے۔ یہ فرائیڈ رائس پکانے کے لیے موزوں ہیں۔”
پاکستان دنیا کے چاول پیدا کرنے والے بڑے ممالک اور برآمدی پاور ہاؤسز میں سے ایک ہے۔ یہ ہر سال چین کو بڑی مقدار میں چاول برآمد کرتا ہے۔ اگر آپ چین کے ای کامرس پلیٹ فارم پر “باسمتی چاول” تلاش کرتے ہیں، تو آپ مختلف قسم کی دکانوں اور خریداری کے لنکس دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گے۔
پاکستان چین کا سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت دار ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان زرعی تعاون ہمیشہ ایک اہم شعبہ رہا ہے۔
چاول اور چلغوزے جیسی پاکستان کی زرعی مصنوعات چین میں صارفین میں مقبول ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون حالیہ برسوں میں زرعی مصنوعات کی تجارت سے لے کر زرعی سرمایہ کاری اور زرعی خدمات تک، اور فصلوں کی کاشت، زرعی پروسیسنگ، زرعی مشینری اور زرعی معلومات کی ایپلی کیشنز جیسے شعبوں تک وسیع ہوگیا ہے۔
ایک پاکستانی تاجرفرقان ماوانی 19ویں چائنہ-آسیان ایکسپو میں اپنے آبائی شہر کی چائے، بسکٹ اور چاول لے کر آئے ہیں جنہیں یہاں آکر معلوم ہوا کہ ان مصنوعات کی چین میں بڑی مارکیٹ ہے۔ گوانگ ڈونگ صوبے میں ایک تجارتی کمپنی چلانے والا شخص چین کی وسیع مارکیٹ پر نظریں رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پاکستانی مصنوعات چین لارہا ہے۔
ماوانی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، میری کمپنی کی پاکستانی زرعی مصنوعات کی چین میں فروخت میں اضافہ ہواہے، اور اس ایکسپو جیسے مزید پلیٹ فارم مصنوعات کی تشہیر کے لیے دستیاب ہیں۔
چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کو اپ گریڈ کرنے سے دونوں ممالک کودوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کا ایک موقع میسر آیا ہےاور اس کے قابل ذکر نتائج سامنے آئے ہیں۔چین سے پاکستان کو برآمد ہونے والے لہسن، چائے اور ٹماٹر کے پیسٹ کی تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان کی چین کو سارڈینز، تل، گری دار میوے کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوطرفہ زرعی تعاون کے امید افزا مستقبل کو دیکھتے ہوئے مزید چینی کاروباری اداروں نے فعال طور پر پاکستان کی مارکیٹ کو وسعت دی۔
نان ننگ میں قائم چین کی ایک بڑی ڈیری کمپنی رائل گروپ نے بھینس کے دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنی پاکستانی ہم منصب کمپنیوں کے ساتھ تعاون قائم کیا ہے۔
رائل گروپ کمپنی کے نائب صدر، تھینگ کیوجن کا کہنا ہے کہ “ایک پاکستانی بھینس ایک سال میں تقریباً تین ٹن دودھ پیدا کر سکتی ہے، جو گوآنگ شی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔”
تھینگ نے کہا کہ کمپنی نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پہلی بھینس ایمبریو پروڈکشن اینڈ ریسرچ لیب قائم کی ہے جسے پیداواری استعمال میں لایا گیا ہے اس کے علاوہ کمپنی نےمقامی بھینسوں کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے پاکستان میں جے ڈبلیو ایس ای زیڈگروپ کے ساتھ مشترکہ طور پر 10کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
جیسے ہی رواں سال جون میں پاکستان میں سیلاب آیا، چین نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کو امداد فراہم کی۔ چین سے میڈیکل اور ہیلتھ کی ٹیمیں پاکستان بھیجی گئیں تاکہ طبی علاج، صفائی ستھرائی اور وبائی امراض سے بچاؤ میں مدد مل سکے۔
چین کے خوداختیار خطے گوانگ شی کے طبی ماہرین کی ٹیم کے تیرہ ارکان گزشتہ ماہ نان ننگ سے پاکستان آئے تاکہ سیلاب کے بعد طبی اور وبائی امراض سے بچاؤ کے کاموں میں مدد کی جاسکے۔
چین کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ زرعی تجارت 2019 میں 83کروڑ20لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 2021 میں 1ارب 31کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اس سال کی پہلی ششماہی میں، دونوں ممالک کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کا حجم 76کروڑ60لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں چین کے لیے پاکستان کی زرعی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلےمیں 30.85 فیصد اضافے کے ساتھ 61کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
چین پاکستان کا زراعت اور طب میں عملی تعاون
القمر
