واشنگٹن: امریکا نے کہا ہے کہ دیگر ممالک میں روسی تیل کی برآمد پر پابندی نہیں لگائی اور بھارت کی طرح کوئی بھی ملک روسی تیل برآمد کر سکتا ہے۔
ایک انگریزی اخبار کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے دیئے گئے انٹرویو کے مطابق کچھ روز قبل بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ روس سے سب سے زیادہ تیل خریدنے والے ممالک کی فہرست میں بھارت نے روایتی فروخت کنندہ سعوی عرب اور عراق کو پیچھے چھوڑدیا تھا۔
بھارتی میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے روس سے خریدے گئے تیل کی قیمتوں کو محدود کرنے کے لیے جی 7 ممالک کی طرف سے تجویز کردہ منصوبے پر عمل نہیں کررہا جہاں ان ممالک کی پابندی کا مقصد روس کی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے انٹرویو میں بتایا کہ امریکا نے دیگر ممالک پر روسی توانائی برآمد کرنے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی۔امریکی عہدیدار سے جب سوال کیا گیا کہ بھارت کی طرح کیا پاکستان اور دیگر ممالک روس سے تیل درآمد کرسکتے ہیں؟
تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ تمام ممالک توانائی درآمدات کی بنیاد پر ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے یوکرین کے خلاف جنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہم مستقبل میں بھارت، یورپی اتحاد اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔
