عالمی فوجداری عدالت کے استغاثہ کریم اسد احمد خان نے بتایا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں واقع شہر ترہونہ میں 230 نا معلوم نعشوں کو بازیاب کیا گیا ہے۔
کریم خان نے ادارے کے سرکاری سوشل میڈیا پر لیبیا کے دورے کے بعد سلامتی کونسل سے خطاب میں اس حوالے سے تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترہونہ میں ہمیں ایک اجتماعی قبر سے 230 نامعلوم نعشیں ملی ہے جن میں سے چند ہی کی شناخت ہو سکی ہے ، میں نے وہاں ان نعشوں کے ورثا سے بھی ملاقاتیں کی ہیں،عالمی فوجداری عدالت کے پاس اس قتل عام کے بصارتی اور صوتی شواہد موجود ہیں۔
دریں اثنا، کریم خان نے مزید بتایا کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں خلیفہ حفتر اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں نے مختلف شہروں میں اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتیں کی ہیں، حفتر سے وابستہ مسلح گروہوں کے جرائم سے متعلق بھی ہمارے پاس دلائل ہیں۔
یاد رہے کہ ترہونہ شہر کو خلیفہ حفتر اور اس کے حامی مسلح گروہوں کے قبضے سے 5 جون 2020 کو آزاد کروا لیا گیا تھا جہاں سے آج تک مسلسل اجتماعی قبریں مل رہی ہیں۔
