English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا پاکستانی سیاستدان غیر سیاسی فوج نہیں چاہتے؟ شفقنا خصوصی

القمر
پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر جاری کشمکش تحریک انصاف کی ہوس اقتدار سے زیادہ حکومت کی کمزوری اور ناطاقتی کی علامت بن چکی ہے۔ اسی کا نتیجہ کا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کی سڑکوں پر روزانہ کی بنیاد پر لاقانونیت کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور لانگ مارچ کے نام پر سجائے گئے اسٹیج سے مسلسل ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جو ملک کی سلامتی پر براہ راست حملہ ہیں۔ ان جارحانہ ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن وزیر اعظم ’مشاورت اور پیغام رسانی‘ کے نام پر لندن چلے گئے تھے جس کا مقصد میاں نواز شریف سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر بات چیت کرنا تھا۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس وقت عمران خان کی قیادت میں قومی سلامتی کے اداروں کی جو درگت بنی ہوئی ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری خود انہی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کا مقدمہ فوج کو سیاست سے نکالنا نہیں ہے بلکہ وہ فوج کو اپنے مفادات کا نگہبان بنانا چاہتے ہیں۔ اس وقت لانگ مارچ میں تقریروں اور میڈیا میں انٹرویوز کے ذریعے جو ایک خاص سنسنی خیز ماحول بنایا گیا ہے، اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ فوج کے ان تمام عناصر کو مشتبہ قرار دیا جائے جو فوج کے ’غیر سیاسی‘ کردار پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فوج کو اپنی شہرت واپس لینے اور عوام کا احترام پانے کے لئے، سیاسی معاملات سے دور رہنا ہو گا۔ عمران خان کے لئے یہ رویہ ناقابل قبول ہے کیوں کہ وہ ماضی قریب کے تجربات سے جانتے ہیں کہ فوج کی مکمل اعانت کے بغیر نہ وہ اقتدار میں واپس آسکتے ہیں اور نہ ہی امور مملکت چلانے کے قابل ہیں۔
ایک روز پہلے ملک کے معتبر انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریہ میں عمران خان کی تازہ ترین میڈیا ٹاک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’عمران خان نے اب آرمی چیف کی تقرری کی حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ اب وہ یہ نہیں کہتے کہ‘ چوروں لٹیروں ’کو فوج کے نئے سربراہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بلکہ اب وہ مان رہے ہیں کہ وزیر اعظم جسے چاہیں نیا آرمی چیف بنا دیں، انہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ ۔ لیکن آج گجرات میں لانگ مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ ’لندن میں ہونے والا تماشا اداروں کو مضبوط نہیں کرے گا۔
نواز شریف وہ آرمی چیف تعینات کرے گا جو اس کے خیال میں ان کی مدد کرے گا‘ اس دوران روزنامہ ڈان کے صحافیوں نے عمران خان کا ایک طویل انٹرویو کیا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے فوج پر تنقید تو برقرار رکھی ہے لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ سیاست میں فوج کا کردار مکمل طور سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بس اسے کوئی منتخب حکومت مثبت انداز میں ملک و قوم کی بہبود کے لئے استعمال کرے۔ اسی انٹرویو کے تناظر میں اخبار نے اپنے اداریے میں نوٹ کیا ہے کہ عمران خان نے دو معاملات پر اپنے پہلے موقف کے مقابلے میں مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔
ایسے میں ملک کے صدر بتا رہے ہیں کہ وہ انتخابات کی تاریخ کے بارے میں فریقین کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر صدر عارف علوی کے بقول وہ یہ کوشش ’بروکر کے طور پر نہیں بلکہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر‘ کے طور پر کر رہے ہیں۔ ملک کے رسمی اور آئینی عہدے پر فائز ایک شخص کی طرف سے یہ حیرت انگیز جواز ہے کہ وہ سپریم کمانڈر کے طور پر فوجی قیادت کے ذریعے اتحادی سیاسی حکومت سے تحریک انصاف کے لئے رعایت لینا چاہ رہے ہیں۔ صدر کی انہی کاوشوں کے حوالے سے تحریک انصاف یہ خبریں پھیلا رہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ تو جلد انتخابات پر راضی ہے لیکن لندن میں بیٹھا نواز شریف اس سے انکار کر رہا ہے۔
ایسے میں جب مسلح افواج کا سپریم کمانڈر نام نہاد سیاسی مصالحت کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج کی طرف سے ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اعلان محض ایک محدود وقت کے لئے تھا۔ یا جب اس کا ’سپریم کمانڈر‘ سیاسی تجاویز لے کر آیا تو آرمی چیف کو ماتحت کے طور پر تابعداری سے ان پر غور کرنا پڑا؟ یہ صورت حال المیہ مزاح کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے لیکن بدقسمتی سے اہم ترین ملکی مفادات اور جمہوریت کے بنیادی اصول اس طرز عمل میں داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ فوج چاہنے کے باوجود بھی ملکی سیاسی جوڑ توڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی کیوں کہ سیاست دان خود اپنے مفادات کے لئے مسلسل اسے اپنے اپنے سیاسی مقصد کے لئے ملوث کرنے پر مصر ہیں۔ ایسے میں واقعی فوجی قیادت کو یہ نصب العین بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کا آلہ کار بننے کی بجائے سیاست سے حقیقی معنوں میں تائب ہو کر اس اہم قومی ادارے کے وقار کو بحال کرنے کا فرض ادا کرے۔
پیر، 14 نومبر 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا پاکستانی سیاستدان غیر سیاسی فوج نہیں چاہتے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے