اسلام آباد:چیف جسٹس اسلا م آباد ہائی کورٹ جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک کے مفاد میں ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو جائے ،ہم جج یا آئی جی بعد میں انسان پہلے ہیں،حکومت نے کچھ نہیں کرنا تو بتا دے ہم ان کیسوں کو ختم ہی کر دیتے ہیں۔
پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی ۔
لاپتہ افراد کی وکیل ایمان زیب مزاری نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے اس عدالت میں پیش ہو کر یقین دہانیاں کرائی تھیں وزیراعظم کی جانب سے آج رپورٹ عدالت میں پیش کی جانی تھی،
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی میٹنگز ہوئیں،
عدالت نے استفسار کیا کہ میٹنگز تو ہوتی رہتی ہیں نتیجہ کیا نکلا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعظم نذیر تارڑ کے استعفے کے بعد کمیٹی غیرفعال ہو گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہنئے وزیر قانون آ چکے کمیٹی غیرفعال کیسے ہو گئی؟کل حکومت تبدیل ہو جاتی ہے تو کمیٹی ختم ہو جائے گی؟سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چلے گئے تو کیا اب یہ کیس ختم ہو جانا چاہیے؟حکومت نے اگر کچھ نہیں کرنا تو بتا دے ہم ان کیسز کو ویسے ہی ختم کر دیتے ہیں،
ان کیسز میں کیا کوششیں کی گئی ہیں؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لواحقین سے میٹنگز ہو چکیں ہیں،
اب مزید کارووائی کرنی ہے ہمیں کچھ مزید وقت چاہیے جس پر عدالت نے کہا کہ سارے کیسز دو دو سال سے زیرالتواء ہیں اور کتنا وقت چاہیے؟ درخواست گزار کے وکیل انعام الرحیم نے بتایا کہ یہ دس مرتبہ وقت مانگ چکے ہیں جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ملک کے مفاد میں ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو جائے ۔
ہمارا اپنا کوئی لاپتہ ہو جائے تو ہم خود کیسا محسوس کرینگے؟ وکیل، جج یا آئی جی بعد میں، ہم انسان تو پہلے ہیں ۔
لاپتہ بچوں کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اسلامک یونیورسٹی کے باہر سے میرے دو بیٹے لاپتہ ہوئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا ،عدالت نے تفتیشی افسر تھانہ سبزی منڈی پر شدید اظہار برہمی کیا اور کہاکیا آپ تفتیش کے اہل ہیں؟ جو دو پھول لگائے ہیں اسکے اہل ہیں؟عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
