اسلام آباد : پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے سرکاری افسران اور وزرا سمیت تمام افراد کے لئے سرکاری خرچے پر مفت حج کی سہولت ختم کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم مفت حج کی سہولت کو ختم کریں گے، سرکاری افسران، ایم این ایز، ایم پی ایز سب کے لئے مفت حج کی سہولت ختم ہو گی، کمیٹی نے سعودی عرب میں موجود نواب آف بہاولپور کی پراپرٹی کے حوالے سے وزارت خارجہ سے تفصیلات طلب کر لیں جبکہ معاملہ آڈٹ حکام کے بھی سپرد کردیا۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وزارت مذہبی امور سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے وزارت مذہبی امور حکام سے حج کے لئے بھجوائے جانے والے معاونین سے متعلق استفسار کیا۔
رکن کمیٹی نثار چیمہ نے کہا کہ انہیں وہاں پر ڈیلی الاﺅنس ملتا ہے، رکن کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ خدام اور معاونین کو بھجوانے کے لئے کیا طریقہ کار ہے۔
چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ جومعاونین گئے ہیں اس پر لاگت کتنی آئی ہے اور کون سے معاونین بار بار گئے ہیں،جو بار بار گئے ہیں ان کا خرچہ بنا کر ان سے پیمنٹ لینی ہے،ہم مفت حج کی سہولت کو ختم کریں گے،سرکاری افسران، ایم این ایز، ایم پی ایز سب کے لئے مفت حج کی سہولت ختم ہو گی۔
اجلاس میں نواب آف بہاولپور کی سعودی عرب میں موجود پراپرٹی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سیکرٹری مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ نواب آف بہاولپور نے 1906میں مکہ اور مدینہ میں پراپرٹی لی تھی،چیئرمین کمیٹی نے معاملے پر فورا سیکرٹری خارجہ کو طلب کیا تاہم سیکرٹری خارجہ کی بجائے وزارت خارجہ کے دیگر حکام اجلاس میں آئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔
نور عالم خان نے کہا کہ میں نے سیکرٹری خارجہ کو بلایا ہے اور وہ نہیں آئے، کمیٹی نے معاملے پر وزارت خارجہ سے تفصیلات طلب کر لیں اور معاملہ آڈٹ حکام کے بھی سپرد کردیا۔
