English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیب ترامیم کیس: خرابی قانون میں نہیں، غلط استعمال پر ہے، چیف جسٹس

القمر

اسلام آباد: چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم کیس کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خرابی قانون میں نہیں بلکہ غلط استعمال پر ہے۔ کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نیب قانون میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

 تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن بیماری ہے، احتساب آئینی حکمرانی کے لیے لازم ہے اور معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے، اس نتیجے پر عدالت پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے متصادم معاملات پر فیصلے کرتی ہے، کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں تو ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں ایک قانون بنا دیں۔

عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرکے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا ایسا کرنا ہمارا کام ہے یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو اس سوال کے جواب میں عدالتی نظائر موجود ہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے بھی اس دن کا انتظار ہے، آپ کے دلائل کے آخری دن کے لیے بھی میرے پاس سوال ہیں تاہم انہوں نے مسکراتے ہوئے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ کے دلائل کا آخری دن کون سا ہوگا۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث آپ نے بتایا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، طے یہ کرنا ہے کہ عدالت کے ایکشن کی کیا شدت ہونی چاہیے۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ ریکوڈک کے بارے میں صدارتی ریفرنس ایک اہم معاملہ ہے۔ عدالت نے نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت 29 نومبر تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے