پاکستان ٹیلی وژن پر ففٹی ففٹی سے شہرت کی بلندیوں پر جانے والے اسماعیل تارا آسمان کا درخشاں تارا بن گئے۔
طنزومزاح میں منفرد مقام کے مالک اسماعیل تارا نے روئے زمین پر 73 بہاریں دیکھیں۔
اسماعیل تارا گردوں کے عارضے میں مبتلا رہے۔ کچھ دن سےکراچی کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔
مصنوعی تنفس دینے کے لیے جمعرات کی صبح وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا لیکن حالت سنبھل نہ سکی اور پھر جسم سے روح کا رشتہ ٹوٹ گیا۔
1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے اسماعیل تارا نے 1964 میں فنکارانہ سفر کا آغاز کیا۔ اسماعیل تارا نے کئی فلموں اور اسٹیج ڈراموں پر بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے مگر 80 کی دہائی میں ففٹی ففٹی میں لازوال اداکاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اسماعیل تارا کو فلم ہاتھی میرے ساتھ، منڈا بگڑا جائے، چیف صاحب اور دیواریں“ میں زبر دست اداکاری پر4 مرتبہ نگار فلم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ماضی قریب میں اسمعیل تارا نےفلم ڈونکی کنگ میں کام کیا۔ ریڈی اسٹیڈی نمبر ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔
اسماعیل تارا نے بیوہ ایک بیٹی اور 4 بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔
اسماعیل تارا کی کمی کوئی پوری نہیں کراسکے ہیں
القمر
